Wednesday, 26 September 2012



رہا کروٹیں بدلتا زمانہ
وہی میں ، وہی در، وہی آستانہ

وہی تو ، وہی شانِ نے نقابی
وہی میں ، وہی جزبہ والہانہ

ترے حسن کی دلبری غیر فانی
مرے عشق کی بے کلی جاودانہ

یہی ہے جو ذوقِ اسیری تو اک دن

قفس کو بھی شرمائے گا آشیانہ



صوفی غلام مصطفیٰ تبسم

جیون پوُچھو گُذرا کیسے
ایسے، ویسے، جیسے ، تیسے!



آج کی بات پھر نہیں ھو گی۔
یہ ملاقات پھر نہیں ھو گی۔

ایسے بادل تو پھر بھی آُئیں گے۔
ایسی برسات پھر نہیں ھو گی۔

رات اُن کو بھی یوں ہوا محسوس ۔۔
کہ یہ رات پھر نہیں ھو گی۔۔

اِک نظر مڑ کے دیکھنے والے۔
کیا یہ خیرات پھر نہیں ھو گی۔۔۔

Wednesday, 15 August 2012



اندر سے بربادی ھے
جھوٹا حاکم ھے یارو
اور سچا فریادی ھے
کیسے ملے گی آزادی
یہ نقطہ بنیادی ھے
...
حاکم چور اچکے ھیں
بات تو سیدھی سادی ھے
میں ھی ملک کا ماما ھوں
چاروں طرف منادی ھے
رب نے لگتا ھے ان کے
دلوں پہ مہر لگادی ھے
جگہ جگہ پر ماتم ھیں
اک دو گھروں میں شادی ھے
بچے کپڑے مانگتے تھے
طفل تسلی لادی ھے
اور پہاڑ مظالم کے
ننھی سی اک وادی ھے
روز جنازے اٹھتے ھیں
ھم نے دری اٹھا دی ھے
ھم نے جھوٹی وعدوں پر
ساری عمر لگادی ھے
فرحت شاہ نے آخر کو
سچی بات بتادی ھے

Monday, 30 April 2012

اس بار جو ایندھن کے لئے کٹ کے گرا ہے..


اس بار جو ایندھن کے لئے کٹ کے گرا ہے 
چڑیوں کو بڑا پیار تھا اُس بوڑھے شجر سے

مشکل ہے اب شہر میں نکلے کوئی گھر سے
دستار پہ بات آ گئی ہوتے ہوئے سر سے ...

برسا بھی تو کس دشت کے بے فیض بدن پر
اک عمر میرے کھیت تھے جس ابر کو ترسے

محنت میری آندھی سے تو منسوب نہیں تھی
رہنا تھا کوئی ربط شجر کا بھی ثمر سے

خود اپنے سے ملنے کا تو یارا نہ تھا مجھ‎ ‎میں
میں بھیڑ میں گم ہو گيا تنہائی کے ڈر سے

بے نام مسافت ہی مقدر ہےتو کیا غم
منزل کا تعین کبھی ہوتا ہے سفر سے

پتھرایا ہے دل یوں کہ کوئی اسم پڑھا جائے
یہ شہر نکلتا نہیں جادو کے اثر سے

نکلے ہیں تو رستے میں کہیں شام بھی ہو گی
سورج بھی مگر آئے گا اسی راہ گزر سے