Wednesday, 26 September 2012


مسکراہٹ ، تبسم ، ہنسی ، قہقہے۔۔
سب کے سب کھو گیے ، ہم بڑے ہو گیے۔

میں تُجھ کو اب بُھلانا چاہتا ہوں
زندگی کو پھر آزمانا چاہتا ہوں
بہت بھیگ چُکا غم کی بارش میں
اب کوئی بس میں ٹھکانا چاہتا ہوں
بدنامیاں ہوئیں بہت میرا مقدر
تیرا نام دامن سے مٹانا چاہتا ہوں
تیری وارفتگی میں بُھول چُکا تھا جنکو
میں اُن رشتوں کو آزمانا چاہتا ہوں
جسکی راہ میں نہ آئے کوئی بھی سَراب
اُس منزل کو میں جانا چاہتا ہوں
سائے کے پیچھے دوڑتے اُکھڑ چُکیں سانسیں
ساگر دن سکُوں کے باقی بیتانا چاہتا ہوں...!

چہرے سجے سجے ہیں تو دل ہیں بجھے بجھے
ہر شخص میں تضاد ہے دن رات کی طرح......!

جن کو دولت حقیر لگتی ہے
اُف ۔ ۔وہ کتنے امیر ہوتے ہیں 

قیس و فرہاد کو لے بیٹھی ہے دنیا تابش
یہ نہیں سوچتی ہم نے بھی محبت کی ہے


وہ مل تو گیا تھا مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنا ہی مقدر
شطرنج کی الجھی ہوئی چالوں کی طرح تھا


میں نے دیکھا تھا اُن دنوں میں اُسے
جب وہ کھلتے گلاب جیسا تھا
اس کی پلکوں سے نیند چھنتی تھی
اس کا لہجہ شراب جیسا تھا
... اس کی زلفوں سے بھیگتی تھی گھٹا
اس کا رخ ماہتاب جیسا تھا
لوگ پڑھتے تھے خدوخال اس کے
وہ ادب کی کتاب جیسا تھا
بولتا تھا زباں خوشبو کی
لوگ سنتے تھے دھڑکنوں میں اُسے
میں نے دیکھا تھا اُن دنوں میں اُسے
ساری آنکھیں تھیں آئینے اُس کے
سارے چہروں میں انتخاب تھا وہ
سب سے گھل مل کے اجنبی رہنا
ایک دریا نما سراب تھا وہ
خواب یہ ہے وہ حقیقت تھا
یہ حقیقت ھے ، کوئی خواب تھا وہ
دل کی دھرتی پہ آسماں کی طرح
صورتِ سایہ و سحاب تھا وہ
اپنی نیندیں اُس کی نذر ہوئیں
میں نے پایا تھا رتجگوں میں اُسے
میں نے دیکھا تھا اُن دنوں میں اُسے
جب وہ ہنس ہنس کے بات کرتا تھا
دل کے خیمے میں رات کرتا تھا
رنگ پڑتے تھے آنچلوں میں اُسے
میں نے دیکھا تھا اُن دنوں میں اُسے
یہ مگر دیر کی کہانی ھے
یہ مگر دُور کا فسانہ ھے
اُس کے ، میرے ملاپ میں حائل
اب تو صدیوں بھرا زمانہ ھے
اب تو یوں ہے کہ حال اپنا بھی
دشتِ ہجراں کی شام جیسا ھے
کیا خبر ، اِن دنوں وہ کیسا ھے
میں نے دیکھا تھا اُن دنوں میں اُسے