Tuesday, 26 February 2013

اس وقت تو یوں لگتا ہے اب کچھ بھی نہیں ہے



اس وقت تو یوں لگتا ہے اب کچھ بھی نہیں ہے
مہتاب نہ سورج، نہ اندھیرا نہ سویرا

آنکھوں کے دریچوں پہ کسی حسن کی چلمن
اور دل کی پناہوں میں کسی درد کا ڈیرا

ممکن ہے کوئی وہم تھا، ممکن ہے سنا ہو
گلیوں میں کسی چاپ کا اک آخری پھیرا

شاخوں میں خیالوں کے گھنے پیڑ کی شاید
اب آ کے کرے گا نہ کوئی خواب بسیرا

اک بَیر، نہ اک مہر، نہ اک ربط نہ رشتہ
تیرا کوئی اپنا، نہ پرایا کوئی میرا

مانا کہ یہ سنسان گھڑی سخت کڑی ہے
لیکن مرے دل یہ تو فقط اک ہی گھڑی ہے
ہمت کرو جینے کو تو اک عمر پڑی ہے

میو ہسپتال، لاہور
4، مارچ 82ء

Monday, 25 February 2013

میرے دل میرے مسافر



میرے دل میرے مسافر
ہوا پھر سے حکم صادر
کہ وطن بدر ہوں ہم تم
دیں گلی گلی صدائیں
کریں رخ نگر نگر کا
کہ سراغ کوئی پائیں
کسی یارِ نامہ بر کا
ہر ایک اجنبی سے پوچھیں
جو پتہ تھا اپنے گھر کا
سرِ کوئے نا آشیاں
ہمیں دن سے رات کرنا
کبھی اِس سے بات کرنا
کبھی اُس سے بات کرنا
تمہیں کیا کہوں کہ کیا ہے
شبِ غم بری بلا ہے
ہمیں یہ بھی تھا غنیمت
جو کوئی شمار ہوتا
ہمیں کیا برا تھا مرنا
اگر اِک بار ہوتا !!!!!!!

کہاں جاؤ گے


اور کچھ دیر میں لُٹ جائے گا ہر بام پہ چاند

عکس کھو جائیں گے آئینے ترس جائیں گے
عرش کے دیدۂ نمناک سے باری باری
سب ستارے سرِ خاشاک برس جائیں گے
آس کے مارے تھکے ہارے شبستانوں میں
اپنی تنہائی سمیٹے گا ، بچھائے گا کوئی
بے وفائی کی گھڑی ، ترکِ مدارات کا وقت
اس گھڑی اپنے سوا یاد نہ آئے گا کوئی!
ترکِ دنیا کا سماں ، ختمِ ملاقات کا وقت
اِس گھڑی اے دلِ آوارہ کہاں جاؤ گے
اِس گھڑی کوئی کسی کا بھی نہیں ، رہنے دو
کوئی اس وقت ملے گا ہی نہیں رہنے دو
اور ملے گا بھی تو اس طور کہ پچھتاؤ گے
اس گھڑی اے دلِ آوارہ کہاں جاؤ گے



اور کچھ دیر ٹھہر جاؤ کہ پھر نشترِ صبح
زخم کی طرح ہر اک آنکھ کو بیدار کرے
اور ہر کشتۂ واماندگیِ آخرِ شب
بھول کر ساعتِ درماندگی آخرِ شب
جان پہچان ملاقات پہ اصرار کرے

یہ جفائے غم کا چارہ ، وہ نِجات دل کا عالم


یہ جفائے غم کا چارہ ، وہ نِجات دل کا عالم
ترا حُسن دستِ عیسٰی، تری یاد رُوئے مریم

دل و جاں فدائے راہے کبھی آ کے دیکھ ہمدم
سرِ کُوئے دل فِگاراں شبِ آرزو کا عالم

تری دِید سے سِوا ہے ترے شوق میں بہاراں
وہ چمن جہاں گِری ہے تری گیسوؤں کی شبنم

یہ عجب قیامتیں ہیں تری رہگزر میں گزراں

نہ ہُوا کہ مَر مِٹیں ہم ، نہ ہُوا کہ جی اُٹھیں ہم

لو سُنی گئی ہماری، یُوں پِھرے ہیں دن کہ پھر سے
وہی گوشہِ قفس ہے، وہی فصلِ گُل کا ماتم

جو میرا تمہارا رشتہ ہے



میں کیا لکھوں کہ جو میرا تمہارا رشتہ ہے
وہ عاشقی کی زباں میں کہیں بھی درج نہیں
لکھا گیا ہے بہت لطفِ وصل و دردِ فراق
مگر یہ کیفیت اپنی رقم نہیں ہے کہیں
یہ اپنا عشق ہم آغوش جس میں ہجر و وصال
یہ اپنا درد کہ ہے کب سے ہمدمِ مہ و سال
اس عشقِ خاص کو ہر ایک سے چھپائے ہوئے
"گزر گیا ہے زمانہ گلے لگائے ہوئے"

وہ تو پتھر پہ بھی گزرے نہ خدا ہونے تک




وہ تو پتھر پہ بھی گزرے نہ خدا ہونے تک 
جو سفر میں نے نہ ہونے سے کیا ، ہونے تک

زندگی! اس سے زیادہ تو نہیں عمر تری
بس کسی دوست کے ملنے سے جدا ہونے تک

ایک اِک سانس مری رہن تھی دِلدار کے پاس
نقدِ جاں بھی نہ رہا قرض ادا ہونے تک

مانگنا اپنے خدا سے بھی ہے دریوزہ گری
ہاتھ شل کیوں نہ ہوئے دستِ دُعا ہونے تک

اب کوئی فیصلہ ہو بھی تو مجھے کیا لینا
میں تو کب سے ہوں سرِ دار ، سزا ہونے تک

داورا ! تیری مشیت بھی تو شامل ہو گی
ایک اچھے بھلے انساں کے برا ہونے تک

دستِ قتل سے ہوں نادم کہ لہو کو میرے
عمر لگ جائے گی ہمرنگِ حنا ہونے تک

دشت سے قلزمِ خوں تک کی مسافت ہے فرازؔ
قیس سے غالبِ آشفتہ نوا ہونے تک
فرازؔ

خود آپ اپنی نظر میں حقیر میں بھی نہ تھا



خود آپ اپنی نظر میں حقیر میں بھی نہ تھا
اس اعتبار سے اس کا اسیر میں بھی نہ تھا

بنا بنا کے بہت اُس نے جی سے باتیں کیں
میں جانتا تھا مگر حرف گیر میں بھی نہ تھا

نبھا رہا ہے یہی وصفِ دوستی شاید
وہ بے مثال نہ تھا بے نظیر میں بھی نہ تھا

سفر طویل سہی گفتگو مزے کی رہی!
وہ خوش مزاج اگر تھا تو میر میں بھی نہ تھا

میں برگِ آخرِ شہرِ خزاں تھا خاک ہوا
کھلا کہ موسمِ گُل کا سفیر میں بھی نہ تھا

میں کہہ رہا تھا رفیقوں سے جی کڑا رکھو
چلا جو درد کا اِک اور تیر میں بھی نہ تھا

ستم کے عہد میں چپ چاپ جی رہا ہوں فرازؔ
سو دوسروں کی طرح باضمیر میں بھی نہ تھا
فرازؔ