Tuesday, 26 February 2013

جب تری جان ہو گئی ہوگی


جب تری جان ہو گئی ہوگی
جان حیران ہو گئی ہو گی
شب تھا میری نگہ کا بوجھ اس پر
وہ تو ہلکان ہو گئی ہو گی
اس کی خاطر ہوا میں خوار بہت
وہ مِری آن ہو گئی ہو گی
ہو کے دشوار زندگی اپنی
اتنی آسان ہو گئی ہو گی
بے گلہ ہوں میں اب بہت دن سے
وہ پریشان ہو گئی ہو گی
اک حویلی تھی دل محلے میں
اب وہ ویران ہو گئی ہو گی
اس کے کوچے میں آئی تھی شیریں
اس کی دربان ہو گئی ہو گی
کمسنی میں بہت شریر تھی وہ
اب تو شیطان ہو گئی ہو گی

مِری پتھر آنکھیں


اب کے مٹی کی عبارت میں لکھی جائے گی
سبز پتّوں کی کہانی رُخِ شاداب کی بات
کل کے دریاوں کی مٹتی ہوئ مبہم تحریر
اب فقط ریت کے دامن میں نظر آئے گی
بُوند بَھر نَم کو ترس جائے گی بے سود دعا
نَم اگر ہو گی کوئ چیز تو میری آنکھیں
میری پلکوں کے دریچے مرِی بنجر آنکھیں
میرا اُجڑا ہو چہرہ ، مری پتھر آنکھیں
قحط افسانہ نہیں اور یہ بے ابر فلک
آج اُس دیس کل اس دیس کا وارث ہوگا
ہم سے ترکے میں ملیں گے اُسے بیمار درخت
تیز کرنوں کی تمازت سے چٹختے ہوئے ہونٹ
دُھوپ کا حُرفِ جنوں ، لُو کا وصّیت نامہ
اور مِرے شہرِ طلسمات کی بے در آنکھیں
مِری بے در مِری بنجر ، مِری پتھرآنکھیں
مصطفی زیدی

رُوح کی مَوت




چمک سکے جو مری زیست کے اندھیرے میں 
وہ اک چراغ کسی سمت سے اُبھر نہ سکا 
یہاں تمھاری نظر سے بھی دیپ جل نہ سکے 
یہاں تمھارا تبسم بھی کام کر نہ سکا 

لہو کے ناچتے دھارے کے سامنے اب تک 
دل و دماغ کی بےچارگی نہیں جاتی 
جنوں کی راہ میں سب کچھ گنوا دیا لیکن 
مرے شعور کی آوارگی نہیں جاتی 

نہ جانے کس لئے اس انتہائے حدت پر 
مرا دماغ سلگتا ہے جل نہیں جاتا 
نہ جانے کیوں ہر اک اُمید لوٹ جانے پر 
مرے خیال کا لاوا پگھل نہیں جاتا 

نہ جانے کون سے ہونٹوں کا آسرا پا کر 
تمھارے ہونٹ مری تِشنگی کو بُھول گئے 
وہی اصول جو مخکم تھے نرم سائے میں 
ذرا سی دھوپ میں نکلے تو جُھول جُھول گئے 

مصطفٰی زیدی 

دشتِ ہجراں میں نہ سایہ نہ صدا تیرے بعد


دشتِ ہجراں میں نہ سایہ نہ صدا تیرے بعد
کتنے تنہا ہیں تیرے آبلہ پا تیرے بعد

کوئی پیغام نہ دلدارِنوا تیرے بعد
خاک اڑاتی ہوئی گزری ہے صبا تیرے بعد

لب پے اک حرفِ طلب تھا نہ رہا تیرے بعد
دل میں تاثیر کی خواہش نہ دعا تیرے بعد

عکس و آئینہ میں اب ربط ہو کیا تیرے بعد
ہم تو پھرتے ہیں خود اپنے سے خفا تیرے بعد

دھوپ عارض کی نہ زلفوں کہ گھٹا تیرے بعد
ہجر کی رت ہے کہ محبس کی فضا تیرے بعد

لیئے پھرتی ہے سرِ کوئے جفا تیرے بعد
پرچمِ تار گریباں کو ہوا تیرے بعد

پیرہن اپنا نہ سلامت نہ قبا تیرے بعد
بس وہی ہم ہیں وہی صحرا کی ردا تیرے بعد

نکہت و نے ہے نہ دستِ قضا تیرے بعد
شاخِ جاں پر کوئی غنچہ نہ کھلا تیرے بعد

دل نہ مہتاب سے اجلا نہ جلا تیرے بعد
ایک جگنو تھا چپ چاپ بجھا تیرے بعد

درد سینے میں ہوا نوحا سرا تیرے بعد
دل کی دھڑکن ہے کہ ماتم کی صدا تیرے بعد

کونسے رنگوں کے بھنور کیسی حنا تیرے بعد
اپنا خون میری ہتھیلی پے سجا تیرے بعد

تجھ سے بچھڑا تو مرجھا کے ہوا برد ہوا
کون دیتا مجھے کھلنے کی دعا تیرے بعد

ایک ہم ہیں کہ بے برگ و نوا تیرے بعد
ورنہ آباد ہے سب خلقِ خدا تیرے بعد

ایک قیامت کی خراشیں میرے چہرے پہ سجیں
ایک محشر میرے اندر سے اٹھا تیرے بعد

اے فلکِ ناز میری خاک نشانی تیری
میں نے مٹی پہ تیرا نام لکھا تیرے بعد

تو کہ سمٹا تو رگِ جاں کی حدوں میں سمٹا
میں کہ بکھرا تو سمیٹا نہ گیا تیرے بعد

یہ الگ بات ہے کہ افشاں نہ ہوا تو ورنہ
میں نے کتنا تجھے محسوس کیا تیرے بعد

ملنے والے کئی مفہوم پہن کر آئے
کوئی چہرہ بھی نہ آنکھوں نے پڑھا تیرے بعد

بجھے جاتے ہیں خد و خال مناظر افق
پھیلتا جاتا ہے خواہش کا خلا تیرے بعد

میرے دکھتی ہوئی آنکھوں سے گواہی لینا
میں نے سوچا تجھے اپنے سے سوا تیرے بعد

سہہ لیا دل نے تیرے بعد ملامت کا عذاب
ورنہ چبھتی ہے رگِ جاں میں ہوا تیرے بعد

جانِ محسن میرا حاصل یہی مبہم سطریں
شعر کہنے کا ہنر بھول گیا تیرے بعد

میں نے اس طور سے چاہا تجھے اکثر جاناں


میں نے اس طور سے چاہا تجھے اکثر جاناں
جیسے ماہتاب کو انت سمندر چاہے
جیسے سورج کی کرن سیپ کے دل میں اترے
جیسے خوشبو کو ہوا رنگ سے ہٹ کر چاہے
جیسے پتھر کے کلیجے سے کرن پھوٹتی ہے
جیسے غنچے کھلے موسم سے حنا مانگتے ہیں
جیسے خوابوں میں خیالوں کی کماں ٹوٹتی ہے
جیسے بارش کی دعا آبلہ با مانگتے ہیں
میرا ہر خواب مرے سچ کی گواہی دے گا
وسعتِ دید نے تجھ سے تری خواہش کی ہے
میری سوچوں میں کبھی دیکھ سراپا اپنا
میں نے دنیا سے الگ تیری پرستش کی ہے
خواہشِ دید کا موسم کبھی ہلکا جو ہوا
نوچ ڈالی ہیں زمانوں کی نقابیں میں نے
تیری پلکوں پہ اترتی ہوئی صبحوں کے لئے
توڑ ڈالی ہیں ستاروں کی طنابیں میں نے
میں نے چاہا کہ ترے حسن کی گلنار فضا
میری غزلوں کی قطاروں سے دہکتی جائے
میں نے چاہا کہ مرے فن کے گلستاں کی بہار
تیری آنکھوں کے گلابوں سے مہکتی جائے
طے تو یہ تھا کہ سجاتا رہے لفظوں کے کنول
میرے خاموش خیالوں مین تکلم تیرا
رقص کرتا رہے، بھرتا رہے خوشبو کا خمار
میری خواہش کے جزیروں میں تبسم تیرا
تو مگر اجنبی ماحول کی پروردہ کرن
میری بجھتی ہوئی راتوں کو سحر کر نہ سکی
تیری سانسوں میں مسیحائی تھی لیکن تو بھی
چارہِ زخمِ غمِ دیدہِ تر کر نہ سکی
تجھ کو احساس ہی کب ہے کہ کسی درد کا داغ
آنکھ سے دل میں اتر جائے تو کیا ہوتا ہے
تو کہ سیماب طبیعیت ہے تجھے کیا معلوم
موسمِ ہجر ٹھہر جائے تو کیا ہوتا ہے
تو نے اس موڑ پہ توڑا ہے تعلق کہ جہاں
دیکھ سکتا نہیں کوئی بھی پلٹ کر جاناں
اب یہ عالم ہے کہ آنکھیں جو کھلیں گی اپنی
یاد آئے گا تری دید کا منظر جاناں
مجھ سے مانگے گا ترے عہدِ محبت کا حساب
تیرے ہجراں کا دہکتا ہوا محشر جاناں
یوں مرے دل کے برابر ترا غم آیا ہے
جیسے شیشے کے مقابل کوئی پتھر جاناں !

محسن نقوی

شہر کی دھوپ سے پوچھیں کبھی گاوں والے


شہر کی دھوپ سے پوچھیں کبھی گاوں والے
کیا ہوئے لوگ وہ زلفوں کی گھٹاوں والے

اب کے بستی نظر آتی نہیں اجڑی گلیاں
آو ڈھونڈیں کہیں درویش دعاوں والے

سنگزاروں میں مرے ساتھ چلے آئے تھے
کتنے سادہ تھے وہ بلورّ سے پاوں والے

ہم نے ذّروں سے تراشے تری خاطر سورج
اب زمیں پر بھی اتر زرد خلاوں والے

کیا چراغاں تھا محبت کا کہ بجھتا ہی نہ تھا
کیسے موسم تھے وہ پر شور ہواوں والے

تو کہاں تھا مرے خالق کہ مرے کام آتا
مجھ پہ ہنستے رہے پتھر کے خداوں والے

ہونٹ سی کر بھی کہاں بات بنی ہے محسن !
خامشی کے سبھی تیور ہیں صداوں والے

محسن نقوی

خدشہ


یہ تیری جھیل سی آنکھوں میں رتجگوں کے بھنور

یہ تیرے پھول سے چہرے پہ چاندنی کی پھوار

یہ تیرے لب، یہ دیارِ یمن کے سرخ عقیق

یہ آئینے سی جبیں، سجدہ گاہِ لیل و نہار



یہ بےنیاز گھنے جنگلوں سے بال تیرے

یہ پھولتی ہوئی سرسوں کاعکس گالوں پر

یہ دھڑکنوں کی زباں، بولتے ہوئے ابرو

کمند ڈال رہے ہیں میرے خیالوں پر



یہ نرم نرم سے ہاتھوں کا گرم گرم لمس

گداز جسم پہ بلور کی تہوں کا سماں

یہ انگلیاں، یہ زمرد تراشی شاخیں

کِرن کِرن ترے دانتوں پے موتیوں کا گماں



یہ چاندنی میں دُھلے پاؤں جب بھی رقص کریں

فضا میں اَن گنِے گھنگھرو چھنکنے لگتے ہیں

یہ پاؤں جب کسی رستے میں رنگ برسائیں

تو موسموں کے مقدر چمکنے لگتے ہیں



تیری جبیں پہ گر حادثوں کے نقش ابھریں

مزاجِ گردشِ دوراں بھی لڑکھڑا جائے

تُو مسکرائے تو صُبحیں تجھے سلام کریں

تُو رو پڑے تو زمانے کی آنکھ بھر آئے



تیرا خیال ہے خوشبو، تیرا لباس ہے کرن

تُو خاک زاد ہے یا آسماں سے اتری ہے

میں تجھ کو دیکھ کے خود سے سوال کرتا ہوں

یہ موجِ رنگ زمیں پہ کہاں سے اتری ہے



میں کس طرح تجھے لفظوں کا پیرہن بخشوں

میرے ہنر کی بلندی تو سر نگوں ہے ابھی

تیرے بدن کے خدوخال میرے بس میں نہیں

میں کس طرح تجھے سوچوں،یہی جنوں ہے ابھی



ملے ہیں یوں تو کئی رنگ کے حسیں چہرے

مگر میں بے نیاز رہا موجہ صبا کی طرح

تیری قسم تیری قربت کے موسموں کے بغیر

میں بھی زمین پہ اکیلا پھرا دیوانے کی طرح



مگر میں شہرِِ حوادث کے سنگ زادوں سے

یہ آئینہ سا بدن کس طرح بچاؤں گا

مجھے یہ ڈر ہے کسی روز تیرے کرب سمیت

میں خود بھی دکھ کے سمندرمیں ڈوب جاؤں گا



مجھے یہ ڈر ہے کہ تیرے تبسّموں کی پھوار

یوں ہی وفا کا تقاضا، حیا کا طور نہ ہو

تیرا بدن، تیری دنیا ہے منتظر جس کی

میں سوچتا ہوں میری جاں وہ کوئی اور نہ ہو



میں سوچتا ہوں مگر سوچنے سے کیا حاصل !!!

یہ تیری جھیل سی آنکھوں میں رتجگوں کے بھنور ۔ ۔ ۔ ۔