شہر کی دھوپ سے پوچھیں کبھی گاوں والےکیا ہوئے لوگ وہ زلفوں کی گھٹاوں والےاب کے بستی نظر آتی نہیں اجڑی گلیاںآو ڈھونڈیں کہیں درویش دعاوں والےسنگزاروں میں مرے ساتھ چلے آئے تھےکتنے سادہ تھے وہ بلورّ سے پاوں والےہم نے ذّروں سے تراشے تری خاطر سورجاب زمیں پر بھی اتر زرد خلاوں والےکیا چراغاں تھا محبت کا کہ بجھتا ہی نہ تھاکیسے موسم تھے وہ پر شور ہواوں والےتو کہاں تھا مرے خالق کہ مرے کام آتامجھ پہ ہنستے رہے پتھر کے خداوں والےہونٹ سی کر بھی کہاں بات بنی ہے محسن !خامشی کے سبھی تیور ہیں صداوں والےمحسن نقوی
No comments:
Post a Comment