Sunday, 28 April 2013

جب سے لاگے تورے سنگ نین پی


جب سے لاگے تورے سنگ نین پیا
نیند گئی آرام نہیں ساری ساری رین پیا

دکھ آئے سکھ بھاگ گئے
سب عیش مٹا سارا چین پیا

تن من دھن سب تجھ پر واروں
صدقہ حسن حسین پیا

و صل علی کیا شانن ہے
لا مثلک فی الدارین پیا

مہرعلی ہے حب علی اور حب نبی ہے مہر علی
لحمک لحمی ، جسمک جسمی ، فرق نہیں مابین پیا

سید مہر علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ

اک لفظِ محبت کا ادنیٰ یہ فسانہ ہے



اک لفظِ محبت کا ادنیٰ یہ فسانہ ہے
سمٹے تو دلِ عاشق، پھیلے تو زمانہ ہے

یہ کِس کا تصوّر ہے، یہ کِس کا فسانہ ہے؟
جو اشک ہے آنکھوں میں، تسبیح کا دانہ ہے

دل سنگِ ملامت کا ہرچند نشانہ ہے
دل پھر بھی مرا دل ہے، دل ہی تو زمانہ ہے

ہم عشق کے ماروں کا اتنا ہی فسانہ ہے
رونے کو نہیں کوئی، ہنسنے کو زمانہ ہے

وہ اور وفا دشمن، مانیں گے نہ مانا ہے
سب دل کی شرارت ہے، آنکھوں کا بہانہ ہے

شاعرہوں میں شاعر ہوں، میرا ہی زمانہ ہے
فطرت مرا آئینہ، قدرت مرا شانہ ہے

جو اُن پہ گزرتی ہے، کس نے اُسے جانا ہے؟
اپنی ہی مصیبت ہے، اپنا ہی فسانہ ہے

آغازِ محبت ہے، آنا ہے نہ جانا ہے
اشکوں کی حکومت ہے، آہوں کا زمانہ ہے

آنکھوں میں نمی سی ہے چُپ چُپ سے وہ بیٹھے ہیں
نازک سی نگاہوں میں نازک سا فسانہ ہے

ہم درد بدل نالاں، وہ دست بدل حیراں
اے عشق تو کیا ظالم، تیرا ہی زمانہ ہے

یا وہ تھے خفا ہم سے یا ہم ہیں خفا اُن سے
کل اُن کا زمانہ تھا، آج اپنا زمانہ ہے

اے عشق جنوں پیشہ! ہاں عشق جنوں پیشہ
آج ایک ستمگر کو ہنس ہنس کے رُلانا ہے

تھوڑی سی اجازت بھی، اے بزم گہہ ہستی
آ نکلے ہیں، دم بھ کو رونا ہے، رُلانا ہے

یہ عشق نہیں آساں، اتنا ہی سمجھ لیجئے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے

خود حسن وشباب ان کا کیا کم ہے رقیب اپنا
جب دیکھئے، تب وہ ہیں، آئینہ ہے، شانا ہے

ہم عشقِ مجسّم ہیں، لب تشنہ ومستسقی
دریا سے طلب کیسی، دریا کو رُلانا ہے

تصویر کے دو رُخ ہیں جاں اور غمِ جاناں
اک نقش چھپانا ہے، اک نقش دِکھانا ہے

یہ حُسن وجمال اُن کا، یہ عشق وشباب اپنا
جینے کی تمنّا ہے، مرنے کا زمانہ ہے

مجھ کو اسی دُھن میں ہے ہر لحظہ بسر کرنا
اب آئے، وہ اب آئے، لازم اُنہیں آنا ہے

خوداری و محرومی، محرومی و خوداری
اب دل کو خدا رکھے، اب دل کا زمانہ ہے

اشکوں کے تبسّم میں، آہوں کے ترنّم میں
معصوم محبت کا معصوم فسانہ ہے

آنسو تو بہت سے ہیں آنکھوں میں جگر لیکن
بندھ جائے سو موتی ہے، رہ جائے سو دانا ہے

جگرمرادآبادی

عاشقِ زار ہوں میں طالبِ آرام نہیں


عاشقِ زار ہوں میں طالبِ آرام نہیں
ننگ و ناموس سے کچھ اپنے تئیں کام نہیں

بے سروپائی سے عشاق کو خطرہ کیا ہے
اثرِ عشق ہے یہ گردشِ ایام نہیں

نشۂ چشم سے ہوں ساقیِ توحید کے مست
احتیاج اپنے تئیں ظرفِ مئے و جام نہیں

بوالہوس پانوں نہ رکھیو کبھی اس راہ کے بیچ
کوچۂ عشق ہے یہ رہگذرِ عام نہیں

بے نہایت ہے کہ پایا نہیں جسکا پایاں
جس جگہ پہنچئے آغاز ہے انجام نہیں

عالمِ عشق کی دنیا ہی نرالی دیکھی
سحر و شام وہاں یہ سحر و شام نہیں

زاہدا حال مرا دیکھ کے حیراں کیوں ہے
مشربِ کفر ہے یہ ملتِ اسلام نہیں

ساقیِ مست کے دیدار کا سرشار ہوں میں
اِس لئے دل کو تمنائے مئے و جام نہیں

عار کیا ہے تجھے لوگوں کی ملامت سے نیاز
عاشقوں میں تو اکیلا ہی تو بدنام نہیں

(حضرت شاہ نیاز بریلوی)

رواں آنکھوں سے ہے سیلابِ گلگوں


رواں آنکھوں سے ہے سیلابِ گلگوں
الٰہی چشم ہے یا چشمۂ خوں

جو شیریں تجکو دیکھے کوہکن ہو
اگر لیلیٰ ہو یہاں ہو جائے مجنوں

یہ دل وہ نیرِ خاکی ہے یارو
بلاگرداں ہے جس پر مہرِ گردوں

ترے آئینۂ رخ کا صفا دیکھ
تحیر میں ہے اشراقِ فلاطوں

علیِ مرتضیٰ ختم الرسل کے
نیاز ایسے ہیں جوں موسیٰ کے ہاروں

(حضرت شاہ نیاز بریلوی)

ایک کتاب ھو محبت کی



ایک کتاب ھو محبت کی جس کا نام تمنا ھو
باب ھو اُس کے اُتنے ھی جتنی میری عمر ھو
...جس کے ھر صفحے پہ رکھے خواہشوں کے پھول ھو
خواہشیں بھی ایسی جس میں ایک تمثیل ھو
اُس تمثیل میں سر تا پہ میری اپنی ھی تکمیل ھو
...میرے ساحر
محبت کی اُس کتاب میں
ایسا کچھ تم بھی لکھو جو کسی نے اب تک لکھا نہ ھو
ایک ایسا فسانہٍ دل جو میں نے اب تک پڑھا نہ ھو
سنو
میری جان
میں تو
ایک عجیب سی خواہش لکھ بیٹھی ھوں
اپنے رب سے تمہیں
صرف
ایک دن کے لیئے مانگ بیٹھی ھوں
میرے ساحر
میرا یقین کہتا ھے
تمھارے ساتھ ایک دن میں کئی جنموں کا سفر رھے گا

عشق کیسا کہ بھروسہ بھی نہیں


عشق کیسا کہ بھروسہ بھی نہیں تھا شاید
اس سے میرا کوئی رشتہ بھی نہیں تھا شاید

خلقتِ شہر میں جس ہار کے چرچے ہیں بہت
میں وہ بازی کبھی کھیلا بھی نہیں تھا شاید

زیست کرنے کے سب آداب اُسے ازبر تھے
مجھ کو مرنے کا سلیقہ بھی نہیں تھا شاید

خاک اُڑاتے ہوئے بازاروں میں دیکھا سب نے
... میں کبھی گھر سے نکلا بھی نہیں تھا شاید

اُس کی آنکھوں میں بشارت تھی نئے خوابوں کی
میں اُسے دیکھ کے چونکا بھی نہیں تھا شاید

ایک بادل کہ میرے نام سے منسُوب ہوا
میرے صحرا میں تو برسا بھی نہیں تھا شاید

آئینۂ جذباتِ نہاں ہیں تری آنکھیں


آئینۂ جذباتِ نہاں ہیں تری آنکھیں
اک کار گہِ شیشہ گراں ہیں تری آنکھیں

سر چشمۂ افکار جواں ہیں تری آنکھیں
تابندہ خیالات کی جاں ہیں تری آنکھیں

اندازِ خموشی میں ہے گفتار کا پہلو
گویا نہ سہی، چپ بھی کہاں ہیں تری آنکھیں

جاؤں گا کہاں توڑ کے زنجیرِ وفا کو
ہر سو مری جانب نگراں ہیں تری آنکھیں

کہنا ہے وہی جس کی توقع ہے تجھے بھی
مت پوچھ مرے دل کی زباں ہیں تری آنکھیں

پلکوں کے جھروکوں سے سبو جھانک رہے ہیں
امید گہِ تشنہ لباں ہیں تری آنکھیں

یوں ہی تو نہیں امڈی چلی آتی ہیں غزلیں
پہلو میں مرے، زمزمہ خواں ہیں تری آنکھیں