اک لفظِ محبت کا ادنیٰ یہ فسانہ ہےسمٹے تو دلِ عاشق، پھیلے تو زمانہ ہےیہ کِس کا تصوّر ہے، یہ کِس کا فسانہ ہے؟جو اشک ہے آنکھوں میں، تسبیح کا دانہ ہےدل سنگِ ملامت کا ہرچند نشانہ ہےدل پھر بھی مرا دل ہے، دل ہی تو زمانہ ہےہم عشق کے ماروں کا اتنا ہی فسانہ ہےرونے کو نہیں کوئی، ہنسنے کو زمانہ ہےوہ اور وفا دشمن، مانیں گے نہ مانا ہےسب دل کی شرارت ہے، آنکھوں کا بہانہ ہےشاعرہوں میں شاعر ہوں، میرا ہی زمانہ ہےفطرت مرا آئینہ، قدرت مرا شانہ ہےجو اُن پہ گزرتی ہے، کس نے اُسے جانا ہے؟اپنی ہی مصیبت ہے، اپنا ہی فسانہ ہےآغازِ محبت ہے، آنا ہے نہ جانا ہےاشکوں کی حکومت ہے، آہوں کا زمانہ ہےآنکھوں میں نمی سی ہے چُپ چُپ سے وہ بیٹھے ہیںنازک سی نگاہوں میں نازک سا فسانہ ہےہم درد بدل نالاں، وہ دست بدل حیراںاے عشق تو کیا ظالم، تیرا ہی زمانہ ہےیا وہ تھے خفا ہم سے یا ہم ہیں خفا اُن سےکل اُن کا زمانہ تھا، آج اپنا زمانہ ہےاے عشق جنوں پیشہ! ہاں عشق جنوں پیشہآج ایک ستمگر کو ہنس ہنس کے رُلانا ہےتھوڑی سی اجازت بھی، اے بزم گہہ ہستیآ نکلے ہیں، دم بھ کو رونا ہے، رُلانا ہےیہ عشق نہیں آساں، اتنا ہی سمجھ لیجئےاک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہےخود حسن وشباب ان کا کیا کم ہے رقیب اپناجب دیکھئے، تب وہ ہیں، آئینہ ہے، شانا ہےہم عشقِ مجسّم ہیں، لب تشنہ ومستسقیدریا سے طلب کیسی، دریا کو رُلانا ہےتصویر کے دو رُخ ہیں جاں اور غمِ جاناںاک نقش چھپانا ہے، اک نقش دِکھانا ہےیہ حُسن وجمال اُن کا، یہ عشق وشباب اپناجینے کی تمنّا ہے، مرنے کا زمانہ ہےمجھ کو اسی دُھن میں ہے ہر لحظہ بسر کرنااب آئے، وہ اب آئے، لازم اُنہیں آنا ہےخوداری و محرومی، محرومی و خوداریاب دل کو خدا رکھے، اب دل کا زمانہ ہےاشکوں کے تبسّم میں، آہوں کے ترنّم میںمعصوم محبت کا معصوم فسانہ ہےآنسو تو بہت سے ہیں آنکھوں میں جگر لیکنبندھ جائے سو موتی ہے، رہ جائے سو دانا ہےجگرمرادآبادی
No comments:
Post a Comment