عاشقِ زار ہوں میں طالبِ آرام نہیںننگ و ناموس سے کچھ اپنے تئیں کام نہیںبے سروپائی سے عشاق کو خطرہ کیا ہےاثرِ عشق ہے یہ گردشِ ایام نہیںنشۂ چشم سے ہوں ساقیِ توحید کے مستاحتیاج اپنے تئیں ظرفِ مئے و جام نہیںبوالہوس پانوں نہ رکھیو کبھی اس راہ کے بیچکوچۂ عشق ہے یہ رہگذرِ عام نہیںبے نہایت ہے کہ پایا نہیں جسکا پایاںجس جگہ پہنچئے آغاز ہے انجام نہیںعالمِ عشق کی دنیا ہی نرالی دیکھیسحر و شام وہاں یہ سحر و شام نہیںزاہدا حال مرا دیکھ کے حیراں کیوں ہےمشربِ کفر ہے یہ ملتِ اسلام نہیںساقیِ مست کے دیدار کا سرشار ہوں میںاِس لئے دل کو تمنائے مئے و جام نہیںعار کیا ہے تجھے لوگوں کی ملامت سے نیازعاشقوں میں تو اکیلا ہی تو بدنام نہیں(حضرت شاہ نیاز بریلوی)
No comments:
Post a Comment