Sunday, 28 April 2013

ہوا کے واسطے اِک کام چھوڑ آیا ہوں


ہوا کے واسطے اِک کام چھوڑ آیا ہوں
دِیا جلا کے سرِشام چھوڑ آیا ہوں
امانتِ سحر و شام چھوڑ آیا ہوں
کہیں چراغ، کہیں جام چھوڑ آیا ہوں
کبھی نصیب ہو فُرصت تو اُس کو پڑھ لینا
وہ ایک خط جو تیرے نام چھوڑ آیا ہوں
ہوائے دشت و بیاباں بھی مُجھ پہ برہم ہے
میں اپنے گھر کے دروبام چھوڑ آیا ہوں
کوئی چراغ سرِ راہگزر نہیں، نہ سہی
میں نقشِ پا تو بہرگام چھوڑ آیا ہوں
ابھی تو اور بہت اس پہ تبصرے ہونگے
میں گفتگو میں جو ابہام چھوڑ آیا ہوں
یہ کم نہیں ہے وضاحت میری اسِیری کی
پروں کے رنگ، تہہِ دام چھوڑ آیا ہوں
وہاں سے ایک قدم بھی نہ بڑھ سکی آگے
جہاں پہ گردشِ ایّام چھوڑ آیا ہوں
مُجھے جو ڈھونڈنا چاہے وہ ڈُھونڈ لے اعجازؔ
کہ اب میں کوچۂ گُمنام چھوڑ آیا ہوں

غلط تھے وعدے


غلط تھے وعدے مگر میں یقین رکھتا تھا
وہ شخص لہجہ بڑا دل نشین رکھتا تھا

ہے تار تار مرے اعتماد کا دامن
کِسے بتاؤں کہ میں بھی اِمین رکھتا تھا

اُتر گیا ہے رگوں میں مری لہُو بن کر
وہ زہر ذائقہ انگبین رکھتا تھا

گُزرنے والے نہ یُوں سرسری گُزر دل سے
مکاں شِکستہ سہی، پر مکین رکھتا تھا

وہ عقلِ کُل تھا بھلا کِس کی مانتا محسن
خیال خام پہ پُختہ یقین رکھتا تھا


محسن بھوپالی

اُداس بام ہے، دَر کاٹنے کو آتا ہے


اُداس بام ہے، دَر کاٹنے کو آتا ہے
ترے بغیر یہ گھر کاٹنے کو آتا ہے

خیالِ موسمِ گُل بھی نہیں ستمگر کو
بہار میں بھی شجر کاٹنے کو آتا ہے

فقیہہِ شہر سے اِنصاف کون مانگے گا
فقیہہِ شیر تو سَر کاٹنے کو آتا ہے

اِسی لیے تو کسانوں نے کھیت چھوڑ دیئے
کہ کوئی اور ثمر کاٹنے کو آتا ہے

ترے خیال کا آہو کہیں بھی دن میں رہے
مگر وہ رات اِدھر کاٹنے کو آتا ہے

کہا تو تھا کہ ہمیں اِس قدر بھی ڈھیل نہ دے
اب اُڑ رہے ہیں تو پَر کاٹنے کو آتا ہے

یہ کام کرتے تھے پہلے سگانِ آوارہ
بشر کو آج بشر کاٹنے کو آتا ہے

یہ اُس کی راہ نہیں ہے مگر یُونہی باقی
وہ میرے ساتھ سفر کاٹنے کو آتا ہے

باقی احمد پوری

آپ ہی اپنا سفر دشوار تر میں نے کیا



آپ ہی اپنا سفر دشوار تر میں نے کیا
کیوں ملالِ فرقتِ دیوار و در میں نے کیا

میرے قد کو ناپنا ہے تو ذرا اس پر نظر
چوٹیاں اونچی تھیں کتنی جن کو سر میں نے کیا

چل دیا منزل کی جانب کارواں میرے بغیر
اپنے ہی شوقِ سفر کو ہمسفر میں نے کیا

منزلیں دیتی نہ تھیں پہلے مجھے اپنا سراغ
پھر جنوں میں منزلوں کو رہگزر میں نے کیا

ہر قدم کتنے ہی دروازے کھلے میرے لئے
جانے کیا سوچا کہ خود کو در بدر میں نے کیا

لفظ بھی جس عہد میں کھو بیٹھے اپنا اعتبار
خامشی کو اس میں کتنا معتبر میں نے کیا

زندگی ترتیب تو دیتی رہی مجھ کو نسیمؔ
اپنا شیرازہ مگر خود منتشر میں نے کیا

نسیمؔ سحر

جانے کس کی تھی خطا یاد نہیں


جانے کس کی تھی خطا یاد نہیں
ہم ہوئے کس سے جدا یاد نہیں

ایک شعلہ سا اُٹھا تھا دل میں
جانے کس کی تھی صدا یاد نہیں

ایک نغمہ سا سنا تھا میں نے
کون تھا شعلہ نوا یاد نہیں

روز دہراتے تھے افسانۂ دل
کس طرح بھول گیا یاد نہیں

اک فقط یاد ہے جانا اُن کا
اور کچھ اس کے سوا یاد نہیں

تو مری جانِ تمنّا تھی کبھی
اے مری جانِ وفا یاد نہیں

ہم بھی تھے تیری طرح آوارہ
کیا تجھے بادِ صبا یاد نہیں

ہم بھی تھے تیری نواؤں میں شریک
طائرِ نغمہ سرا یاد نہیں

حالِ دل کیسے تبسّم ہو بیاں
جانے کیا یاد ہے، کیا یاد نہیں

(صوفی تبسّم)

محبت میں شب تاریک ہجراں


محبت میں شب تاریک ہجراں کون دیکھے گا ؟
ہم ہی دیکھیں گے،یہ خواب پریشاں کون دیکھے گا
ان آنکھوں سے تجلی کو درخشاں کون دیکھے گا
اٹھا بھی دو نقاب رو ء تاباں کون دیکھے گا
یہ اک رات ہے بس کائنا ت زندگی اپنی
بنے پھرتے ہو یوسف ،شام زنداں کون دیکھے گا
حقیقت کا تقاضا بھی یہی ہے پردہ داری کا
رہو تم آنکھ میں کہ پردوں میں پنہاں کون دیکھے گا
کچھ ایسا ہو دم آخر نہ آئیں عیادت کو
انہیں اپنے کیے پہ یوں پشیماں کون دیکھے گا
مجھ پر آئے گا الزام میری پائمالی کا
تری رفتار کو اےفتنہ ساماں کون دیکھے گا
یہی اب بھی صدائیں آتی ہیں وادی ایمن سے
کہاں ہیں طالب دیدار جاناں ،کون دیکھے گا
عذاب حشر سے تو کیوں ڈراتا ہے مجھے واعظ
تجھے معلوم ہے فرد عصیاںکون دیکھے گا
چلو مخمور تنہائی میں شغل مے کشی ہوگا
چھپ کر لے چلو پینے کا ساماں ،کون دیکھے گا ؟
مخمور دہلوی

دلِ دہقاں جو کھیتوں میں نہیں ہے



دلِ دہقاں جو کھیتوں میں نہیں ہے
تقّدس اب وہ فصلوں میں نہیں ہے

سفر کرتے ہیں لیکن بےدلی سے
یقیں شامل ارادوں میں نہیں ہے

ہمارے عہد کے وہ مسئلے ہیں
کہ جن کا حل کتابوں میں نہیں ہے

جو ظالم ہے ، اُسے ظالم ہی کہہ دیں
خلُوص اِتنا بھی لوگوں میں نہیں ہے

ہوائیں سنسناتی پھر رہی ہیں
کوئی چہرہ دریچوں میں نہیں ہے

جسے ہم قید کرنا چاہتے ہیں
وہی اک لمحہ، لمحوں میں نہیں ہے

چھلک جائیں تو آسُودہ ہوں آنکھیں
مگر ہمت ہی اشکوں میں نہیں ہے

نئی قاموسِ غم لکھتا ہوں باقی
اثر اب کہُنہ لفظوں میں نہیں ہے

باقی احمد پوری