ہوا کے واسطے اِک کام چھوڑ آیا ہوںدِیا جلا کے سرِشام چھوڑ آیا ہوںامانتِ سحر و شام چھوڑ آیا ہوںکہیں چراغ، کہیں جام چھوڑ آیا ہوںکبھی نصیب ہو فُرصت تو اُس کو پڑھ لیناوہ ایک خط جو تیرے نام چھوڑ آیا ہوںہوائے دشت و بیاباں بھی مُجھ پہ برہم ہےمیں اپنے گھر کے دروبام چھوڑ آیا ہوںکوئی چراغ سرِ راہگزر نہیں، نہ سہیمیں نقشِ پا تو بہرگام چھوڑ آیا ہوںابھی تو اور بہت اس پہ تبصرے ہونگےمیں گفتگو میں جو ابہام چھوڑ آیا ہوںیہ کم نہیں ہے وضاحت میری اسِیری کیپروں کے رنگ، تہہِ دام چھوڑ آیا ہوںوہاں سے ایک قدم بھی نہ بڑھ سکی آگےجہاں پہ گردشِ ایّام چھوڑ آیا ہوںمُجھے جو ڈھونڈنا چاہے وہ ڈُھونڈ لے اعجازؔکہ اب میں کوچۂ گُمنام چھوڑ آیا ہوں
No comments:
Post a Comment