آپ ہی اپنا سفر دشوار تر میں نے کیاکیوں ملالِ فرقتِ دیوار و در میں نے کیامیرے قد کو ناپنا ہے تو ذرا اس پر نظرچوٹیاں اونچی تھیں کتنی جن کو سر میں نے کیاچل دیا منزل کی جانب کارواں میرے بغیراپنے ہی شوقِ سفر کو ہمسفر میں نے کیامنزلیں دیتی نہ تھیں پہلے مجھے اپنا سراغپھر جنوں میں منزلوں کو رہگزر میں نے کیاہر قدم کتنے ہی دروازے کھلے میرے لئےجانے کیا سوچا کہ خود کو در بدر میں نے کیالفظ بھی جس عہد میں کھو بیٹھے اپنا اعتبارخامشی کو اس میں کتنا معتبر میں نے کیازندگی ترتیب تو دیتی رہی مجھ کو نسیمؔاپنا شیرازہ مگر خود منتشر میں نے کیانسیمؔ سحر
No comments:
Post a Comment