گزرا ہوں جس طرف سے بھی پتھر لگے مجھےایسے بھی کیا تھے لعل و جواہر لگے مجھےلو ہو چکی شفا کہ مداوائے دردِ دلاب تیری دسترس سے بھی باہر لگے مجھےترسا دیا ہے ابرِ گریزاں نے اس قدربرسے جو بوند بھی تو سمندر لگے مجھےتھامے رہو گے جسم کی دیوار تابکےیہ زلزلہ تو روح کے اندر لگے مجھےگر روشنی یہی ہے تو اے بدنصیب شہراب تیرگی ہی تیرا مقدر لگے مجھےمنزل کہاں کی زادِ سفر کو بچائیو!اب رہزنوں کی نیّتِ رہبر لگے مجھےوہ مطمئن کہ سب کی زباں کاٹ دی گئیایسی خموشیوں سے مگر ڈر لگے مجھےوہ قحطِ حرفِ حق ہے کہ اس عہد میں فرازخود سا گنہگار پیمبر لگے مجھے(احمد فراز)
No comments:
Post a Comment