جب ملاقات بے ارادہ تھیاس میں آسودگی زیادہ تھینہ توقع نہ انتظار نہ رنجصبحِ ہجراں نہ شامِ وعدہ تھینہ تکلف نہ احتیاط نہ زعمدوستی کی زبان سادہ تھیجب بھی چاہا کہ گنگناؤں اسےشاعری پیش پا فتادہ تھیلعل سے لب چراغ سی آنکھیںناک ستواں جبیں کشادہ تھیحدتِ جاں سے رنگ تانبا ساساغر افروز موجِ بادہ تھیزلف کو ہمسری کا دعویٰ تھاپھر بھی خوش قامتی زیادہ تھیکچھ تو پیکر میں تھی بلا کی تلاشکچھ وہ کافر تنک لبادہ تھیاپسرا تھی نہ حور تھی نہ پریدلبری میں مگر زیادہ تھیجتنی بے مہر، مہرباں اتنیجتنی دشوار ، اتنی سادہ تھیاک زمانہ جسے کہے قاتلمیرے شانے پہ سر نہادہ تھییہ غزل دین اُس غزال کی ہےجس میںہم سے وفا زیادہ تھیوہ بھی کیا دن تھے جب فرازؔ اس سےعشق کم عاشقی زیادہ تھی"پسِ انداز موسم" سے انتخاب
No comments:
Post a Comment