مجھے کمال کی دھن ہے، کمال کر دوں گاتری نظر کو، کئی دل نکال کر دوں گا!وہ چشمِ مست ابھی اس سے بھی نہیں واقفکہ میں بہک کے اچانک سوال کر دوں گا!میری فنا تو مسلّم ہے اس کا خوف ہی کیاتمہاری ذات کو میں لازوال کر دوں گاادھر سے گزریں اگر گردشیں زمانے کی!قسم خدا کی طبیعت بحال کر دوں گا!یقیں نہیں کہ یہ لغزش ہوئی ہو دانستہگماں نہ تھا کہ کبھی عرض حال کر دوں گامیری پسند کا معیار کچھ بھی ہو تاہمجسے چنوں گا اسے بے مثال کر دوں گاحقیر ہوگی میری پیشکش ذلیل نہیںجو چیز دوں گا تجھے دیکھ بھال کر دوں گامیرے سپرد نہ کر اپنے راز اے ہمدم!مجھے یہ ڈر ہے میں افشائے حال کر دوں گابہت سوال نہ کر مجھ پہ داورِ محشر!کہ میں بھی کوئی ادق سا سوال کر دوں گامیں اس لیے نہیں ملتا کسی مربّی سےجسے ملوں گا اسے پرملال کر دوں گازہے نصیب کہ کہتا ہے خود عدم ساقیتجھے میں اپنی محبت سے ڈال کر دوں گا(عبدالحمید عدم)
No comments:
Post a Comment