راس آ نہیں سکا کوئی بھی پیمان الوداعتو میری جانِ جاں سو مری جان الوداعمیں تیرے ساتھ بجھ نہ سکا حد گزر گئیاے شمع! میں ہوں تجھ سے پشیمان الوداعمیں جا رہا ہوں اپنے بیابانِ حال میںدامان الوداع! گریبان الوداعاِک رودِ نا شناس میں ہے ڈوبنا مجھےسو اے کنارِ رود ، بیابان الوداعخود اپنی اک متاعِ زبوں رہ گیا ہوں میںسو الوداع، اے مرے سامان الوداعسہنا تو اک سزا تھی مرادِ محال کیاب ہم نہ مل سکیں گے ، میاں جان الوداعاے شام گاہِ صحنِ ملالِ ہمیشگیکیا جانے کیا تھی تری ہر اک آن ، الوداعکِس کِس کو ہے علاقہ یہاں اپنے غیر سےانسان ہوں میں ، تو بھی ہے انسان الوداعنسبت کسی بھی شہ سے کسی شے کو یاں نہیںہے دل کا ذرہ ذرہ پریشان الوداعرشتہ مرا کوئی بھی الف ، بے سے اب نہیںامروہا الوداع سو اے بان الوداعاب میں نہیں رہا ہوں کسی بھی گمان کااے میرے کفر ، اے مرے ایمان الوداع
No comments:
Post a Comment