اے خدا! جو بھی مجھے پندِ شکیبائی دےاُس کی آنکھوں کو مرے زخم کی گہرائی دےتیرے لوگوں سے گلہ ہے مرے آئینوں کوان کو پتھر نہیں دیتا ہے تو بینائی دےجس کے ایما پہ کیا ترکِ تعلق سب سےاب وہی شخص مجھے طعنۂ تنہائی دےیہ دہن زخم کی صورت ہے مرے چہرے پریا مرے زخم کو بھر، یا مجھے گویائی دےاتنا بے صرفہ نہ جائے مرے گھر کا جلناچشمِ گریاں نہ سہی چشمِ تماشائی دےجن کو پیراہنِ توقیر و شرف بخشا ہےوہ برہنہ ہیں انھیں خلعتِ رسوائی دےکیا خبر تجھ کو کہ کس وضع کا بسمل ہے فرازؔوہ تو قاتل کو بھی الزامِ مسیحائی دےاحمد فرازؔ کے مجموعۂ کلام "جاناں جاناں" سے انتخاب
No comments:
Post a Comment