Wednesday, 6 February 2013



میکدے کا نظام تم سے ہے
 شیشہ تم سے ہے جام تم سے ہے

 صبح تم سے ہے شام تم سے ہے
 ہر طرح کا نظام تم سے ہے

 سب کو سوز و گداز تم نے دیا
 عشق کا فیضِ عام تم سے ہے

 مَیں زمانے کے رُو برو چُپ ہوں
 بے تکلّف کلام تم سے ہے

 خالِ مشکیں بھی، زُلفِ پیچاں بھی
 دانہ تم سے ہے، دام تم سے ہے

 مہرِ انور میں ہے تمہاری ضیا
 حُسنِ ماہِ تمام تم سے ہے

 تم ہو بنیاد دونوں عالم کی
 دو جہاں کا قیام تم سے ہے

 ہم تمہارے ہیں، تم ہمارے ہو
 ہم کو عشقِ دوام تم سے ہے

 اب کسی کو نصیر کیا جانے
 اب تو جو کچھ ہے کام تم سے ہے

No comments:

Post a Comment