Wednesday, 6 February 2013



اگر کبھی میری یاد آئے
 تو چاند راتوں کی نرم دلگیر روشنی میں
 کسی ستارے کو دیکھ لینا
 اگر وہ نخل فلک سے اُڑ کر تمہارے قدموں میں آ گرے تو
 یہ جان لینا، وہ استعارہ تھا میرے دل کا
 اگر نہ آئے
 مگر یہ ممکن ہی کس طرح ہےکہ تم کسی پر نگاہ ڈالو
 تو اس کی دیوار جاں نہ ٹوٹے
 وہ اپنی ہستی نہ بھول جائے
 اگر کبھی میری یاد آئے
 گریز کرتی ہوا کی لہروں پہ ھاتھ رکھنا
 میں خوشبوؤں میں تمہیں ملوں گا
 مجھے گلابوں کی پتیوں میں تلاش کرنا
 میں اوس قطروں کے آئینوں میں تمہیں ملوں گا
 اگر ستاروں میں، اوس قطروں میں، خوشبوؤں میں
 نہ پاؤ مجھ کو
 تو اپنے قدموں میں دیکھ لینا
 میں گرد ہوتی مسافتوں میں تمہیں ملوں گا
 کہیں پہ روشن چراغ دیکھو تو یہ سوچ لینا
 کہ ہر پتنگے کے ساتھ میں بھی بکھر چکا ہوں
 تم اپنے ہاتھوں سے ان پتنگوں کی خاک دریا میں ڈال دینا
 میں خاک بن کر سمندروں میں سفر کروں گا
 کسی نہ دیکھے ھوئے جزیرے پہ رک کے تم کو
 صدائیں دوں گا
 سمندروں کے سفر پہ نکلو تو
 اس جزیرے پہ بھی اترنا!!!

 (شاعر: امجد اسلام امجد)

No comments:

Post a Comment