چاند پر اِک مے کدہ آباد ہونا چاہیےیا محبت کو یہیں آزاد ہونا چاہیےقاضیِ محشر! تری مرضی ، ہماری سوچ ہےظالموں کو دُنیا میں برباد ہونا چاہیےروح کے بے رنگ افق پر، رات بھر گونجی ندادل پرندہ، فکر سے آزاد ہونا چاہئیےخواہشِ جنت میں کرتے ہیں جو زاہد نیکیاںنام اُن کا ’’متقی شداد‘‘ ہونا چاہیےخوبصورت تتلیوں نے کھول کر رَکھ دی کتابغنچوں کی جانب سے کچھ اِرشاد ہونا چاہیےعشق کی گیتا کے پچھلے نسخوں میں یہ درج تھاطالبانِ حسن کو فولاد ہونا چاہئیےوصلِ شیریں تو خدا کی مرضی پر ہے منحصرعاشقوں کو محنتی فرہاد ہونا چاہئیےنامور عشاق کی نا کامی سے ثابت ہواعشق کے مضمون کا استاد ہونا چاہئیےخون سے خط لکھ تو لوں پر پیار کے اظہار کاراستہ آسان تر ایجاد ہونا چاہئیےعلم کا اَنبار راہِ عشق میں بے کار ہےقیسؔ کو بس لیلیٰ کا گھر یاد ہونا چاہیے
No comments:
Post a Comment