Saturday, 9 February 2013

وہ خدا ہیں کہ نہیں ہیں
اس بزم میں آخر شعرا ہیں کہ نہیں ہیں
انداز مِرے سب سے جُدا ہیں کہ نہیں ہیں

زاہد سے نہیں حُسن کی سرکار سے پُوچھو
ہم بندۂ تسلیم و رضا ہیں کہ نہیں ہیں

جلووں کی طلب، پیروی حضرتِ مُوسیٰ
گُمراہ مِرے راہنما ہیں کہ نہیں ہیں

آ تجھ کو دِکھا دُوں کہ ستاروں سے بھی آگے
انسان کے نقشِ کفِ پا ہیں کہ نہیں ہیں

ہاں میں تو لئے پھرتا ہوں اِک سجدۂ بیتاب
ان سے بھی تو پوچھو وہ خدا ہیں کہ نہیں ہیں

کلام: حفیظ جالندھری ۔ 1923ء

No comments:

Post a Comment