جاتے ہوئے اک بار تو جی بھر کے رُلائیںممکن ہے کہ ہم آپ کو پھر یاد نہ آئیںہم چھیڑ تو دیں گے ترا محبوب فسانہکھنچ آئیں گی فردوس کی مدہوش فضائیںپھر تشنہ لبی زخم کی دیکھی نہیں جاتیپھر مانگ رہا ہوں ترے آنے کی دعائیںپھر بیت نہ جائے یہ جوانی، یہ زمانہآؤ تو یہ اُجڑی ہوئی محفل بھی سجائیںپھر لوٹ کے آئیں گے یہیں قافلے والےاُٹھتی ہیں اُفق سے کئی غمناک صدائیںشاید یہی شعلہ مری ہستی کو جلا دےدیتا ہوں میں اڑتے ہوئے جگنو کو ہوائیںاے کاش ترا پاس نہ ہوتا مرے دل کواٹھتی ہیں پر رک جاتی ہیں سینے میں صدائیںاک آگ سی بھر دیتا ہے رگ رگ میں تبسّماس لطف سے اچھی ہیں حسینوں کی جفائیںمعبود ہو اُن کے ہی تصّور کی تجلّیاے تشنہ لبو آؤ! نیا دَیر بنائیںہم سنگِ دریا پہ بے ہوش پڑے ہیںکہہ دے کوئی جبریل سے، بہتر ہے، نہ آئیںہاں، یاد تو ہوگا تمہیں راوی کا کناراچاہو تو یہ ٹوٹا ہوا بربط بھی بجائیںتوبہ کو ندیم آج تو قربان کرو گےجینے نہیں دیتیں مجھے ساون کی گھٹائیں
No comments:
Post a Comment