ہر کلی میں پھول بننے کی نہاں ہے آرزودیکھ کر طوفاں کوکَھول اُٹھتا ہے قطرے کا لہوہر ستارہ چاند بننے کے لئے بیتاب ہےچاند کا دل بھی تمنّاؤں سے لذّت یاب ہےاُس کے سینے میں بھی ہے خورشید بننے کا خیالاُس کی نظروں میں بھی ہے مہرِ درخشاں کا جمالہے خزف ریزے کے دل میں آئینہ بننے کا شوقآئینے کو مہ وشوں کا نقشِ پا بننے کا شوقناچتے ہیں پھول اِس اُمید میں مستانہ وارگوندھنے آئے گی مالن ایک دوشیزہ کا ہارسر پٹخ کر جھاگ برساتے ہیں پیہم آبشارچاہتے ہیں اپنی منزل سے ہوں یکدم ہمکناردن کے دل میں رات بننے کی تمنّا ہے نہاںرات کو یہ شوق، کب ہوگی سحر جلوہ فشاںتیرگی کو نور کا روئے حسیں محبوب ہےنور کو ظلمات کی سنجیدگی مرغوب ہےمفلسوں کو سلطنت کا شاہ بننے کی ہوسشاہ کو کونین کا اللہ بننے کی ہوسکمسنی کے دل میں رقصاں ہے تمنّائے شباباور بڑھاپے کی تبسّم پر جوانی کی نقابمیں کہ اک شاعر ہوں بے پروائے قدرِ ننگ و ناممیرے سینےمیں بھی اک اُمید ہے، آتش بجام!ایک شعلہ سا لرزتا ہے رگوں میں، مستقل"جانے والے لوٹ آتے ہیں" یہی کہتا ہے دلزندگی کو میں نے دیکھا ہے برافگندہ نقابزندگی پیہم خلش ہے، جاودانی اضطراب!
No comments:
Post a Comment