راہ پر اُن کو لگا لائے تو ہیں باتوں میںاور کھُل جائیں گے دو چار ملاقاتوں میںیہ بھی تم جانتے ہو چند ملاقاتوں میںآزمایا ہے تمہیں ہم نے کئی باتوں میںغیر کے سر کی بلائیں جو نہیں لیں ظالمکیا مرے قتل کو بھی جان نہیں ہاتھوں میںابرِ رحمت ہی برستا نظر آیا زاہدخاک اڑتی کبھی دیکھی نہ خراباتوں میںیارب! اس چاند کے ٹکڑے کو کہاں سے لاؤںروشنی جس کی ہو ان تاروں بھری راتوں میںتمہیں انصاف سے اے حضرتِ ناصح کہہ دولطف اُن باتوں میں آتا ہے کہ اِن باتوں میںدوڑ کر دستِ دعا ساتھ دعا کے جاتےہائے پیدا نہ ہوئے پاؤں میرے ہاتھوں میںجلوۂ یار سے جب بزم میں غش آیا ہےتو رقیبوں نے سنبھالا ہے مجھے ہاتھوں میںایسی تقریر سنی تھی نہ کبھی شوخ و شریرتیری آنکھوں کے بھی فتنے ہیں تری باتوں میںہم سے انکار ہوا، غیر سے اقرار ہوافیصلہ خوب کیا آپ نے دو باتوں میںہفت افلاک ہیں لیکن نہیں کھُلتا یہ حجابکونسا دشمنِ عشّاق ہیں ان ساتوں میںاور سنتے ابھی رندوں سے جنابِ واعظچل دئیے آپ تو دو چار صلٰواتوں میںہم نے دیکھا انہیں لوگوں کو ترا دم بھرتےجن کی شہرت تھی یہ ہرگز نہیں ان باتوں میںبھیجے دیتا ہے انہیں عشق متاعِ دل و جاںایک سرکار لُٹی جاتی ہے سوغاتوں میںدل کچھ آگاہ تو ہو شیوۂ عیاری سےاس لئے آپ ہم آتے ہیں تری گھاتوں میںوصل کیسا وہ کسی طرح بہلتے ہی نہ تھےشام سے صبح ہوئی اُن کی مداراتوں میںوہ گئے دن جو رہے یاد بتوں کی اے داغرات بھر اب تو گزرتی ہے مناجاتوں میں(داغ دہلوی)
No comments:
Post a Comment