فلک پہ گونج رہی ہے مری صدا، کوئی ہے؟مرے علاوہ بھی اِس دہر میں بتا کوئی ہے؟ترے ابد کے مضافات سے گزرتا ہُوایہیں کہیں مری دُنیا میں راستہ کوئی ہےبغیر اُس کے مری راکھ بُجھنے لگتی ہےکُھلا کہ میرا بھی سُورج سے واسطہ کوئی ہےسماعتوں پہ کب اُترے گا اُس کی چاپ کا رِزقمیں کیوں جہاں میں اکیلا ہوں گر مرا کوئی ہےٹھہر سکی نہ کسی ایک چاک پر مری خاکسو میرے پیشِ نظر اب بھی مرحلہ کوئی ہےاکیلا کب ہے سرِ ریگ زار میرا جُنوںنواحِ جاں میں کہیں اور قافلہ کوئی ہےجواز آنکھ میں ٹُوٹا جو خُواب کا کانٹاکُھلا کہ میرے تعاقب میں رتجگا کوئی ہےجواز جعفری
No comments:
Post a Comment