طے کروں گا یہ اندھیرا میں اکیلا کیسےمیرے ہمراہ چلے گا مرا سایہ کیسےمیری آنکھوں کی چکا چوند بتا سکتی ہےجِس کو دیکھا ہی نہ جائے ، ا سے دیکھا کیسےچاندنی اس سے لپٹ جائے ، ہوائیں چھیڑیںکوئی رہ سکتا ہے د نیا میں اچھوتا کیسےمیں تو ا س وقت سے ڈرتا ہوں کہ وہ پوچھ نہ لےیہ اگر ضبط کا آنسو ہے تو ٹپکا کیسےیاد کے قصر ہیں ، ا مید کی قندیلیں ہیںمیں نے آباد کیے درد کے صحرا کیسےاس لیے صرف خدا سے ہے تخاطب میرامیرے جذبات کو سمجھے گا فرشتہ کیسےذہن میں نت نئے بت ڈھال کے یہ دیکھتا ہوںبت کدے کو وہ بنا لیتا ہے کعبہ کیسےاس کی قدرت نے میرا راستہ روکا ہوگاپوچھ مجھ سے کہ قیامت ہوئی برپا کیسےگر سمندر ہی سے دریاﺅں کا رزق آتا ہےاس کے سینے میں ا تر جاتے ہیں دریا کیسےٹوٹتی رات نے سورج سے یہ سرگوشی کیمیں نہ ہوتی تو تیرا اندر برستا کیسے
No comments:
Post a Comment