دریدہ پَیرہَنی کل بھی تھی اور آج بھی ہےمگر وُہ اور سبب تھا ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ یہ اَور قِصہ ہےیہ رات اور ہے، وہ رات اور تھی ، جس میںہر ایک اشک میں سارنگیاں سی بجتی تِھیںعجیب لذت ِ نظارہ تھی حجاب کے ساتھہر ایک زخم مہکتا تھا ماہتاب کے ساتھیہی حیات ِ گُریزاں بڑی سہانی تھینہ تم سے رنج نہ اپنے سے بد گُمانی تھیشکایت آج بھی تم سے نہیں کہ محرومیتمھارے در سے نہ ملتی تو گھر سے مل جاتیتمھارا عہد اگر اُستوار ہی ہوتاتو پھر بھی دامن ِ دل تار تار ہی ہوتاخود اپنی ذات ہی ناخُن ، خود اپنی ذات ہی زخمخُود اپنا دِدل رگ ِ جاں اَور خُود اپنا دِل نِشترفساد ِ خلق بھی خُود اور فساد ِ ذات بھی خودتمھاری سنگدلی سے خفا نہیں ہوتےکہ ھم سے اپنے ہی وعدے وفا نہیں ہوتے
No comments:
Post a Comment