شعوُر میں، کبھی احساس میں بساؤں اُسےمگر مَیں چار طرف بے حجاب پاؤں اُسےاگرچہ فرطِ حیا سے نظر نہ آؤں اُسےوہ رُوٹھ جائے تو سو طرح سے مناؤں اُسےطویل ہجر کا یہ جبر ہے، کہ سوچتا ہوںجو دل میں بستا ہے، اب ہاتھ بھی لگاؤں اُسےاُسے بلا کے مِلا عُمر بھر کا سناّٹامگر یہ شوق، کہ اِک بار پھر بلاؤں اُسےاندھیری رات میں جب راستہ نہیں مِلتامَیں سوچتا ہوں، کہاں جا کے ڈھوُنڈ لاؤں اُسےابھی تک اس کا تصوّر تو میرے بس میں ہےوہ دوست ہے، تو خدا کِس لیے بناؤں اُسےندیم ترکِ محبت کو ایک عُمر ہوئیمَیں اب بھی سوچ رہا ہوں، کہ بُھول جاؤں اُسے
No comments:
Post a Comment