ریت سے بت نہ بنا اے میرے اچھے فنکاراک لمحہ کو ٹھہر میں تجھے پتھر لادوںمیں تیرے سامنے انبار لگادوں لیکنکون سے رنگ کا پتھر تیرے کام آئے گاسرخ پتھر جسے دل کہتی ہے بے دل دنیایا وہ پتھرائی ہوئی آنکھ کا نیل پتھرجس میں صدیوں کے تحیر کے پڑے ہوں ڈورےکیا تجھے روح کے پتھر کی ضرورت ہوگیجس پر حق بات بھی پتھر کی طرح گرتی ہےاک وہ پتھر ہے جو کہلاتا ہے تہذیبِ سفیداس کے مرمر میں سیاہ خوں جھلک جاتا ہےاک انصاف کا پتھر بھی تو ہوتا ہے مگرہاتھ میں تیشہ زر ہو تو وہ ہاتھ آتا ہےجتنے معیار ہیں اس دور کے سب پتھر ہیںشعر بھی رقص بھی تصویر و غنا بھی پتھرمیرے الہام تیرا ذہن ِ رسا بھی پتھراس زمانے میں ہر فن کا نشان پتھر ہےہاتھ پتھر ہیں تیرے میری زبان پتھر ہےریت سے بت نہ بنا اے میرے اچھے فنکار
No comments:
Post a Comment