سرشار ہوں، سرشار ہے دنیا مرے آگےکونین ہے اک لرزشِ صہبا مرے آگےہر نجم ہے اک عارضِ روشن مرے نزدیکہر ذرّہ ہے اک دیدۂ بینا مرے آگےہر جام ہے نظّارۂ کوثر مرے حق میںہر گام ہے گل گشتِ مصلّیٰ مرے آگےہر پھول ہے لعلِ شکر افشاں کی حکایتہر غنچہ ہے اک حرفِ تمنا مرے آگےاک مضحکہ ہے پرسشِ عقبیٰ مرے نزدیکاک وہم ہے اندیشۂ فردا مرے آگےہوں کتنی ہی تاریک شبِ زیست کی راہیںاک نور سا رہتا ہے جھلکتا مرے آگےمیں اور ڈروں صولتِ دنیائے دنی سے!خود لرزہ بر اندام ہے دنیا مرے آگےجھکتا ہے بصد عجز، کلیسا مرے در پرآتا ہے لرزتا ہوا کعبا مرے آگےپیمانے سے جس وقت چھلک جاتی ہے صہبالہراتا ہے اک حُسن کا دریا مرے آگےجب چاند جھمکتا ہے مرے ساغرِ زر میںچلتا نہیں خورشید کا دعویٰ مرے آگےجب جھوم کے مینا کو اٹھاتا ہوں گھٹا میںہلتا ہے سرِ گنبدِ مینا مرے آگےآتی ہے دلہن بن کے، مشیّت کی جِلو میںآوارگئ آدم و حوّا مرے آگےپیمانے پہ جس وقت جھکاتا ہوں صراحیجھکتا ہے سرِ عالمِ بالا مرے آگےپہلو میں ہے اک زہرہ جبیں، ہاتھ میں ساغراس وقت نہ دنیا ہے نہ عقبیٰ مرے آگےجوش اٹھتی ہے دشمن کی نظر جب مری جانبکھلتا ہے محبت کا دریچا مرے آگے(جوش ملیح آبادی)
No comments:
Post a Comment