زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیںمیں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گاتو ملا ہے تو یہ احساس ہوا ہے مجھ کویہ میری عمر محبت کے لیے تھوڑی ہےاک ذرا سا غمِ دوراں کا بھی حق ہے جس پرمیں نے وہ سانس بھی تیرے لیے رکھ چھوڑی ہےتجھ پہ ہو جاؤں گا قربان تجھے چاہوں گامیں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گااپنے جذبات میں نغمات رچانے کے لیےمیں نے دھڑکن کی طرح دل میں بسایا ہے تجھےمیں تصور بھی جدائی کا بھلا کیسے کروںمیں نے قسمت کی قسمت کی لکیروںسے چرایا ہے تجھےپیار کا بن کے نگہبان تجھے چاہوں گامیں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گاتیری ہر چاپ سے جلتے ہیں خیالوںمیں چراغجب بھی تو آئے جگاتا ہوا جادو آئےتجھ کو چھو لوںتو پھر اے جانِ تمنا مجھ کودیر تک اپنے بدن سے تری خوشبو آئےتو بہاروں کا ہے عنوان تجھے چاہوں گامیں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گازندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیںمیں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گا !قتیل شفائی
No comments:
Post a Comment