اُس کے گھر کا پتہ تبدیل بھی ہو سکتا ہےدو قدم فاصلہ، دو میل بھی ہو سکتا ہےروک رکھا ہے جو آنسو پشِ مژگاں ہم نےوہ اگر چاہیں تو ترسِیل بھی ہو سکتا ہےفاختاؤں کے تعاقب میں یہاں آ تو گئےیہ نگر شہرِابابیل بھی ہو سکتا ہےشدتِ کار کے موسم میں معآ تیرا ورُودشہر میں باعثِ تعطیل بھی ہو سکتا ہےفیصلہ شہرِ محبت سے چلے جانے کاآخری وقت میں تبدیل بھی ہو سکتا ہےاِس قدر شاد نہ ہو اتنی پذیرائی سےتیرے ماں جایوں میں قابیل بھی ہو سکتا ہےجواز جعفری
No comments:
Post a Comment