بے وفا باتیں بنا جاتا ہے کیا کیا جھوٹ سچوصل کی امید پر سنتا ہوں صدہا جھوٹ سچخیر یونہیں روز کہہ جاتا ہوں مر جانے کو میںدیکھ لینا بے مروت آج میرا جھوٹ سچکچھ تو ہو تسکینِ دل ظالم دمِ اقرارِ وصلایک دن تو اپنے منہ سے کہہ دے 'اچھا' جھوٹ سچپا کے موقع اب تو کچھ باتیں بھی کر لیتے ہیں وہرہ گیا ہے میرے اُن کے یونہیں پردا جھوٹ سچہمنشیں سنتے نہ سنتے وہ بلا سے دو گھڑیکہہ تو لیتے اُن سے کچھ دل کی تمنا جھوٹ سچبیٹھ کر دیر و حرم میں برہمن سے شیخ سےعمر بھر ہم نے سنی بیکار کیا کیا جھوٹ سچکوئی کیا سمجھے حسینانِ جہاں کی گفتگوسچ سراپا جھوٹ ہوتا ہے سراپا جھوٹ سچدشتِ غربت میں سوا ہمزاد کے اپنا ہے کونکچھ ابھی تک دے رہا ہے ساتھ سایا جھوٹ سچکوئی کیا جانے جو میرے آپ کے باہم ہیں رازکہنے دو کہتے ہیں جو کچھ اہلِ دنیا جھوٹ سچعمر بھر باتیں سنیں ہر شب بتِ عیار کیپر زبانِ شمع کو آیا نہ کہنا جھوٹ سچانتظارِ مرگ ہے بالیں پر آ کر گاہ گاہنسخے لکھ جاتے ہیں خاطر سے اطبا جھوٹ سچرات دن جز اعتراضِ مدعی فرمائیےکیا ملا تسلیم تم کو کہہ کے اتنا جھوٹ سچ(امیر اللہ تسلیم لکھنوی)
No comments:
Post a Comment