اِس طرح ناز سے وہ جانِ ادا بیٹھی ہےجس طرح تخت پہ بلقیسِ سبا بیٹھی ہےتیرا چہرہ بھی اِسے پھول کے مانند لگاایک تتلی تری تصویر پہ آ بیٹھی ہےکیا خبر تھی، یہ اذیّت بھی اٹھانا ہو گیخط جلاتے ہوئے وہ ہاتھ جلا بیٹھی ہےجانے کیا سوچ کے، وہ ہجر زدہ شہ زادیدو پرندوں کو دریچے سے اُڑا بیٹھی ہےحالتِ عشق میں قابو نہ رہا خود پہ اُسےرفتہ رفتہ وہ سبھی ہوش گنوا بیٹھی ہےیوں تو بیٹھی ہیں کئی اور حسینائیں بھیسب میں ہوتے ہوئے، وہ سب سے جدا بیٹھی ہےایک مدّت سے میں گھر سے نہیں نکلا، ساحر!ایک مدّت سے مرے در پہ قضا بیٹھی ہے(پرویز ساحر)
No comments:
Post a Comment