رہنے دے رتجگوں میں پریشاں مزید اُسےلگنے دے ایک اور بھی ضربِ شدید اُسےجی ہاں ! وہ اِک چراغ جو سُورج تھا رات کاتاریکیوں نے مِل کے کِیا ہے شہید اُسےفاقے نہ جُھگیوں سے سڑک پر نکل پڑیںآفت میں ڈال دے نہ یہ بحرانِ عید اُسےفرطِ خُوشی سے وہ کہیں آنکھیں نہ پھوڑ لےآرام سے سناؤ سحر کی نوید اُسےہر چند اپنے قتل میں شامل وہ خُود بھی تھاپھر بھی گواہ مل نہ سکے چشم دید اُسےبازار اگر ہے گرم تو کرتب کوئی دِکھا!سب گاہکوں سے آنکھ بچا کر خرید اُسےمدت سے پی نہیں ہے تو پھر فائدہ اُٹھا!وہ چل کے آ گیا ہے تو کر لے کشید اُسےمشکُوک اگر ہے خط کی لکھائی تو کیا ہواجعلی بنا کے بھیج دے تو بھی رسید اُسےبیدل حیدری
No comments:
Post a Comment