فرقت میں وصلت برپا ہے۔۔اللہ ہُو کے باڑے میںآشوبِ وحدت برپا ہے۔۔اللہ ہُو کے باڑے میںروحِ کُل سے سب روحوں پر وصل کی حسرت طاری ہےاک سرِّ حکمت برپا ہے۔۔اللہ ہُو کے باڑے میںبے احوالی کی حالت ہے شاید یا شاید کہ نہیںپُر احوالیت برپا ہے۔۔اللہ ہُو کے باڑے میںمُختاری کے لب *سِلوانا* جبر عجب تر ٹھہرا ہےہیجانِ غیرت برپا ہے۔۔اللہ ہُو کے باڑے میںبابا الف ارشاد کناں ہیں پیشِ عدم کے بارے میںحیرتِ بے حیرت برپا ہے۔۔اللہ ہُو کے باڑے میںمعنی ہیں لفظوں سے برہم *قہر خموشیِ عالم* ہےایک عجب حجّت برپا ہے۔۔اللہ ہُو کے باڑے میںموجودی سے انکاری ہے اپنی ضد میں نازِ وجودحالت سی حالت برپا ہے۔۔اللہ ہُو کے باڑے میں
No comments:
Post a Comment