پا چکا طاعت کی لذت، درد کے پہلو بھی دیکھشیخ! آ محراب سے باہر، خمِ ابرو بھی دیکھکافرِ نعمت! ادا کر کچھ تو حقِّ چشم و گوشنغمۂ مطرب بھی سن، حُسنِ رخِ نیکو بھی دیکھتا کجا طنبورۂ یزداں فریبِ خانقاہ؟آ، کسی دن میکدے کا رقصِ ہاؤ ہو بھی دیکھسر جھکانے ہی کو سمجھا ہے مآلِ زندگی؟جن سے دل جھکتا ہے حق جوئی کے وہ پہلو بھی دیکھچونک، او دیوانۂ گل گشتِ حورانِ بہشتدو گھڑی میدان میں آ کر رمِ آہو بھی دیکھضربتِ تیغِ مجاہد کے ثناخوانِ قدیم!بے ستوں پر کوہکن کی قوتِ بازو بھی دیکھفرشِ مسجد سے اٹھا بھی خاک آلودہ جبیںرکھ کے زیرِ سر کسی معشوق کا زانو بھی دیکھعشقِ مولیٰ کے لئے ہے عشقِ انساں ناگزیرسازِ بے رنگی کے طالب! سوزِ رنگ و بو بھی دیکھگیسوئے طاعت میں پیدا کر خمِ سوز و گدازدانۂ تسبیح پر بہتے ہوئے آنسو بھی دیکھاے ہلالِ عید کی رُویت کے مشتاقِ کہن!خنجرِ بُرّاں کو شرماتے ہوئے ابرو بھی دیکھمُوشگافی تا کجا 'واللیل' کی تفسیر میں؟مہ وشوں کے دوش پر بکھرے ہوئے گیسو بھی دیکھسحرِ اوراد و وظائف، ہاں مسلّم ہے، مگرنرگسِ مستانہ کا چلتا ہوا جادو بھی دیکھحُسن ذروں سے ابلتا ہے کبھی تو جام اٹھادیکھتی ہیں جوش کی آنکھیں جو عالم، تو بھی دیکھ(جوش ملیح آبادی)
No comments:
Post a Comment