انشاء جی بہت دن بیت چکےتم تنہا تھے تم تنہا ہویہ جوگ بے جوگ تو ٹھیک نہیںیہ روگ کسی کا اچھا ہوکبھی پورپ میں کبھی پچھم میںتم پرواہ ہو تم پچھواہ ہوجو نگری نگری بھٹکائے ہےایسا بھی نہ من میں کانٹا ہوکیا اور سبھی چونچال یہاںکیا ایک تمہی یہاں دکھیا ہوکیا تمہی پر دھوپ کڑیجب سب پر سکھ کا سایہ ہوتم کس جنگل کا پھول میاںتم کس بھگیا کا بیلا ہوتم کس ساغر کی لہر بھلاتم کس بادل کی برکھا ہوتم کس پونم کا اجیارہکس اندھی رین کی اوشا ہوتم کن ہاتھوں کی مہندی ہوتم کس ماتھے کا ٹیکہ ہوکیوں شہر تجا کیوں جوگ لیاکیوں وحشی ہو کیوں رسوا ہوہم جب دیکھیں روپ نیاہم کیا جانے تم کیا کیا ہوجب سورج ڈوبے سانج بہئےاور پھیل رہا اندھیارہ ہوکس ساز کی لحہ پر چھنن چھننکس گیت کا مکھڑا جاگا ہواس تال پہ ناچتے پیڑوں میںاک چپ چپ ندیا بہتی ہوہوچاروں اوٹ سگہن بسییوں جنگل پہنا گجرا ہویہ عنبر کے مکھ کا آنچلاس آنچل کا رنگ اودھا ہوایک گوٹ دو پیلے تاروں کیاور بیچ سنہرا چندا ہواس سندر شیتل شام سمےہاں بولو بولو پھر کیا ہووہ جس کا ملنا ناممکنوہ مل جائے تو کیسا ہو
No comments:
Post a Comment