مسجدِ زیست میں اک عمر جبیں سائی کیمرحبا کس نے کہا، کس نے پذیرائی کی؟مُڑ کے دیکھا، نہ کبھی زحمتِ گویائی کیواہ کیا بات ہے اُس پیکرِ رعنائی کیکچھ نے شاعر کہا اور کچھ نے کہا دیوانہیہ ملی ہم کو سزا تجھ سے شناسائی کی'کون ہوتا ہے حریفِ مئے مرد افگنِ عشق'یوں تو کرتے ہیں سبھی بات شکیبائی کیلوگ تو بات کا افسانہ بنا دیتے ہیںورنہ اوقات ہی کیا تیرے تمنائی کی؟شامِ حرماں، شبِ غم، صبحِ الم، روزِ امیدحد بھی ہوتی ہے کوئی قافیہ پیمائی کیدولتِ زخمِ جگر، حشمتِ آلامِ وفاکوئی دیکھے تو فقیری ترے سودائی کیایک سایہ تھا، گزرگاہِ نظر تھی، میں تھامجھ سے پوچھے کوئی لذت شبِ تنہائی کیانگلیاں اٹھتی ہیں ہر گاہ زمانے بھر میںداد اچھی ملی سرورؔ تجھے خود رائی کی(سرور عالم راز سرورؔ)
No comments:
Post a Comment