زندگی پاؤں نہ دَھر جانبِ انجام ابھی
مرے ذمے ہیں ادُھورے سے کئی کام ابھیابھی تازہ ہے بہت گھاؤ بچھڑ جانے کا
گھیر لیتی ہے تری یاد سرِشام ابھیاِک نظر اور اِدھر دیکھ مسیحا میرے
ترے بیمار کو آیا نہیں آرام ابھیرات آئی ہے تو کیا ، تم تو نہیں آئے ہو
مری قسمت میں کہاں لِکھا ہے آرام ابھیجان دینے میں کروں دیر، یہ مُمکن ہے کہاں
مجھ تک آیا ہے مری جاں ترا پیغام ابھیطائرِ دل کے ذرا پَر تو نِکل لینے دو
اِس پرندے کو بھی آنا ہے تہِ دام ابھیتوڑ سکتا ہے مرا دل یہ زمانہ کیسے
میرے سینے میں دھڑکتا ہے ترا نام ابھیمیرے ہاتھوں میں ہے موجُود ترے ہاتھ کا لمس
دِل میں برپا ہے اُسی شام کا کہرام ابھیمیں ترا حسن سخن میں ابھی ڈھالوں کیسے
میرے اشعار بنے ہیں کہاں اِلہام ابھیمری نظریں کریں کیسے ترے چہرے کا طواف
مری آنکھوں نے تو باندھے نہیں احرام ابھییاد کے ابَر سے آنکھیں مری بھیگی ہیں عدیم
اِک دھندلکا سا ہے ،بھیگی تو نہیں شام ابھینذرِ اقبالعدیم ہاشمی
No comments:
Post a Comment