کیا غضب ہے حُسن کے بیمار ہونے کی اداجیسے کچی نیند سے بیدار ہونے کی اداانکسارِ حُسن، پلکوں کے جھپکنے میں نہاںنیم وا بیمار آنکھوں سے مروت سی عیاںجنبشِ مژگاں میں غلطاں سازِ غم کا زیر و بمخامشی میں پرفشاں ایفائے پیماں کی قسماحترامِ عشق کی رَو، دلنشیں آواز میںایک پھیکے پن کا سناٹا دیارِ ناز میںالاماں، آنکھوں کی نیم افسردہ سی افسوں گریایک دھندلا سا تبسم، اک تھکی سی دلبریچُوڑیاں ڈھیلی، دُلائی پُرشکن، ماتھے پہ ہاتلب پہ خشکی، رُخ پہ سوندھا پن، نظر میں التفاتہلکی ہلکی جَھلکیاں رُخسار پر یوں نور کیجیسے گُل پر، صبحِ کاذب کی سہانی چاندنیلے رہا ہے کروٹیں عارض میں یوں رنگِ شبابجس طرح موجِ خراماں پر ضیائے ماہتابحُسن یوں کھویا ہوا سا بزمِ محسوسات میںجیسے دونوں وقت ملتے ہوں بھری برسات میںیوں ہے اک روشن نمی سی چشمِ سحر انداز میںصبح کو شبنم ہو جیسے معرضِ پرواز میںجیسے کُہرے میں کوئی تابندہ منظر دُور کاجیسے پچھلی رات کے سینے پہ ڈورا نور کاایسے اضمحلال پر دنیا کی بَرنائی نثارایسی بیماری پر اعجازِ مسیحائی نثار(جوش ملیح آبادی)
No comments:
Post a Comment