من کے مندر میں ہے اُداسی کیوںنہیں آتی وہ دیو داسی کیوںابر برسا ، برس کے کُھل بھی گیارہ گئی پھر زمین پیاسی کیوںاک خوشی کا خیال آتے ہیچھا گئی ذہن پر اُداسی کیوںزندگی بے وفا ازل سے ہےپھر بھی لگتی ہے با وفا سی کیوںایسی فطرت شکار دنیا میںاتنی انسان ناشناسی کیوںکیوں نہیں ایک ظاہر و باطنآدمی ہو گئے سیاسی کیوںغمگساری ،خلوص ، مہر ، وفاہو گئے ہیں یہ پھول باسی کیوںاک حقیقت ہے جب بدن کی طلبپھر محبت کریں قیاسی کیوںیہ ملاقات ، یہ سکوت ، یہ شامابتداء میں یہ انتہا سی کیوںملنے والے بچھڑ بھی سکتے ہیںتیری آنکھوں میں ہے اداسی کیوں
No comments:
Post a Comment