جس سر کو غرور آج ہے یاں تاج وری کاکل اُس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا
شرمندہ ترے رُخ سے ہے رخسار پری کاچلتا نہیں کچھ آگے ترے کبک دری کا
آفاق کی منزل سے گیا کون سلامتاسباب لٹا یاں راہ میں ہر سفری کا
زنداں میں بھی شورش نہ گئی اپنے جنوں کیاب سنگ مداوا ہے اس آشفتہ سری کا
ہر زخم جگر داورمحشر سے ہماراانصاف طلب ہے تری بیداد گری کا
اپنی تو جہاں آنکھ لڑی پھر وہیں دیکھوآئینہ کو لپکا ہےپریشان نظری کا
آمد موسم گل ہم کو تہ بال ہی گزرے
مقدور نہ دیکھا کبھو بے بال و پری کا
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کامآفاق کی اس کارگہ شیشہ گری کا
ٹک میر جگر سوختہ کی جلد خبر لےکیا یار بھروسہ ہے چراغ سحری کا
No comments:
Post a Comment