معمور ہو رہا ہے عالم میں نور تیرااز ماہ تا بماہی سب ہے ظہور تیرااسرارِ احمدی سے آگاہ ہو سو جانےتو نورِ ہر شرر ہے ہر سنگ طور تیراہر آنکھ تک رہی ہے تیرے ہی منہ کو پیارےہر کان میں ہوں پاتا معمور شور تیراجب جی میں یہ سمائی جو کچھ کہ ہے سو تو ہےپھر دل سے دور کب ہو قرب و حضور تیرابھاتا نہیں ہے واعظ جز دیدِ حق مجھے کچھتجھ کو رہے مبارک حور و قصور تیراوحدت کے ہیں یہ جلوے نقش و نگارِ کثرتگر سرِّ معرفت کو پاوے شعور تیراگر حرفِ بے نیازی سرزد نیاز سے ہوپتلے میں خاک کے ہے پیارے غرور تیرا(شاہ نیاز بریلوی)
No comments:
Post a Comment