خدا جانے ًکہاں سے جلوہء جاناں کہاں تک ہےوہیں تک دیکھ سکتا ہے، نظر جس کی جہاں تک ہےہم اتنی بھی نہ سمجھے، عقل کھوئی دل گواں بیٹھےکہ حسن و عشق کی دنیا کہاں سے ہے کہاں تک ہےزمیں سے آسماں تک ایک سناٹے کا عالم ہےنہیں معلوم مرے دل کی ویرانی کہاں تک ہےزمیں سے آسماں تک، آسماں سے لا مکاں تک ہےخدا جانے ہمارے عشق کی دنیا کہاں تک ہےنیاز و ناز کی روداد، حسن و عشق کا قصہیہ جو کچھ بھی ہے سب اُن کی ہماری داستاں تک ہےخیالِ یار نے تو آتے ہی گُم کردیا مجھ کویہی ہے ابتدا تو انتہا اس کی کہاں تک ہےسُنا ہے صوفیوں سے ہم نے اکثر خانقاہوں میںکہ یہ رنگیں بیانی "بیدم" رنگیں بیاں تک ہے(بیدم شاہ وارثیؒ)
No comments:
Post a Comment