اس خرابے کی تاریخ کچھ بھی سہی، رات ڈھلنی تو ہے رُت بدلنی تو ہےخیمہء خاک سے روشنی کی سواری نکلنی تو ہے رُت بدلنی تو ہےکیا ہوا جو ہوائیں نہیں مہرباں، اک تغیّر پہ آباد ہے یہ جہاںبزم آغاز ہونے سے پہلے یہاں، شمع جلنی تو ہے رُت بدلنی تو ہےدامنِ دل ہو یا سایہ ء چشم و لب، دونوں بارش کی طرح برستے ہوں جبایسے عالم میں پھر بھیگ جانے کی خواہش مچلنی تو ہے رُت بدلنی تو ہےابر کے سلسلے اور پیاسی زمیں ، آگ بجھتی ہے پانی سے سورج نہیںکہساروں پہ جمتی ہوئی برف اک دن پگھلنی تو ہے رُت بدلنی تو ہےعشق ایجاد ہم سے ہوا ہے سو ہم، اس کے رمز و کنایہ سے واقف بھی ہیںتیرے بیمار کی یہ جو حالت ہے آخر سنبھلنی تو ہے، رُت بدلنی تو ہےسلیم کوثر
No comments:
Post a Comment