ایسا ہے کہ سب خواب مسلسل نہیں ہوتےجو آج تو ہوتے ہیں مگر کل نہیں ہوتےاندر کی فضاؤں کے کرشمے بھی عجب ہیںمینہ ٹوٹ کے برسے بھی تو بادل نہیں ہوتےکچھ مشکلیں ایسی ہیں کہ آساں نہیں ہوتیںکچھ ایسے معمے ہیں کبھی حل نہیں ہوتےشائستگیِ غم کے سبب آنکھوں کے صحرانمناک تو ہو جاتے ہیں جل تھل نہیں ہوتےکیسے ہی تلاطم ہوں مگر قلزمِ جاں میںکچھ یاد جزیرے ہیں کہ اوجھل نہیں ہوتےعشاق کے مانند کئی اہل ہوس بھیپاگل تو نظر آتے ہیں پاگل نہیں ہوتےسب خواہشیں پوری ہوں فراز ایسا نہیں ہےجیسے کئی اشعار مکمل نہیں ہوتے(احمد فراز)
No comments:
Post a Comment