تو پرندے مار دے سرو و صنوبر مار دےتیری مرضی جس کو دہشت گرد کہہ کر مار دےتیرا اس کے ماننے والوں سے پالا پڑ گیاجو پرندے بھیج کر لشکر کے لشکر مار دےتم بھی موسیٰ کے تعاقب میں چلے تو آئے ہودیکھنا تم کو نہ یہ نیلا سمندر مار دےتو نے جس کے ڈھونڈنے کو بھیج دی اتنی سپاہیہ نہ ہو وہ تجھ کو تیرے گھر کے اندر مار دےاس کو کیا حق ہے یہاں بارود کی بارش کرےاس کو کیا حق ہے مرے رنگلے کبوتر مار دےفیصلے تاریخ کے، میدان میں ہوتے نہیںمارنے والو! کوئی تم کو نہ مر کر مار دےروشنی کے واسطے پندار کا سودا نہ کرسامنے سورج بھی ہے تو اس کو ٹھوکر مار دےگونج تو بھی اس کے لہجے میں پہاڑوں کی طرحتابش اس کی بات تو بھی اس کے منہ پر مار دے
No comments:
Post a Comment