تو آ اِس دم کہ ہے وقتِ سحر اے گلبدن ٹھنڈازمیں ٹھنڈی، ہوا ٹھنڈی، مکاں ٹھنڈا، چمن ٹھنڈابرنگِ کاسۂ یخ بستہ آہِ سرد سے میریہوا شب کو مہِ کامل سرِ چرخِ کہن ٹھنڈاجو وہ خورشید رو بھی محفل آرا رات کو ہو گاتو پھر ہو جائے گا بازارِ شمعِ انجمن ٹھنڈاخدا جانے سحر کس کی گلی سے یہ ہوا آئیحباب آسا جو میرا ہو گیا ہے پیرہن ٹھنڈاسحر گر بام پر دیکھے اکڑنا میری مہ رو کاوہیں ہو چرخِ کج رفتار کا پھر بانکپن ٹھنڈاحرارت اس قدر سوزِ محبت کی ہے سینے میںنہ ہو گا بعدِ مردن بھی بدن زیرِ کفن ٹھنڈاتو مت منہ موڑ اب مجھ کو لگا لے اپنے سینے سےکہ میرا سینۂ سوزاں ہو اےغنچہ دہن ٹھنڈامریضِ عشق کی تیرے بیاں کیا کیجیے حالتکہ بس پتھرا گئیں آنکھیں، ہوا یکسر بدن ٹھنڈاہوا کیوں ایک شب کے واسطے پروانہ سے سرکشسحر ہو جائے گا اے شعلۂ شمع لگن ٹھنڈامرا دل تشنہ ہے زلفِ عرق آلودہ سے کہہ دوپلا دے اس کو پانی تو سرِ چاہِ ذقن ٹھنڈابرنگِ شمع ہنس ہنس کر وہ آتش خو جلاتا ہےشتاب اے دیدۂ پرآب کر میرا بدن ٹھنڈاسدا دل شعلہ افروز آتشِ ہجراں سے رہتا ہےنہیں ہوتا ہے یہ گلشن کبھی اے جانِ من ٹھنڈاچلے ہیں رات کو چوری سے ہم اس ماہ کے گھر میںچراغِ ماہ کو کر دے تو اے چرخِ کہن ٹھنڈاظفر لکھوں غزل وہ اور تبدیلِ قوافی میںکہ تا ہو جائے اب بازارِ اربابِ سخن ٹھنڈا(سراج الدین بہادر شاہ ظفر)
No comments:
Post a Comment