میں وہ کوئی ہوں جس کا خدائی میں نام ہےکہتے ہیں جس کو حُسن سو مجھ پر تمام ہےعالم میں میری جلوہ نمائی کا ہر طرفغوغا ہے غل ہے شور ہے اور دھوم دھام ہےخلقت کے کان پُر ہیں اسی ذکر سے ہوئےہر ہر زبان پر یہی بات اور کلام ہےجس دل میں دیکھئے تو ہماری ہی چاہ ہےجو آنکھ ہے سو تک رہی ہم کو مُدام ہےہر سر کے بیچ اپنا ہی سودا ہے بھر رہااپنی تڑپ میں ریشہ و رگ ہر کدام ہےدیکھا ہے جس نے حُسن ہمارا بچشمِ دلخوبانِ اس جہان سے کب اُس کو کام ہےحاضر ہے بندگی میں ہماری تمام خلقاز عرش تا بفرش سب اپنا غلام ہےرکھتا ہے ہم سے ہر کوئی راز و نیاز شیخپر ایک نیاز اپنا مدار المہام ہے(حضرت شاہ نیاز بریلوی)
No comments:
Post a Comment