ہر آشنا سے ایسا ہے اب آشنا کا طوردو دن میں جیسے بگڑے ہے رنگِ حنا کا طورتیرے مریضِ عشق کی ہو کیا شفا کا طورنے کچھ دوا کا ڈھنگ، نہ ہے کچھ دعا کا طورہوویں گے فتنے کتنے ہی پیدا جہان میںگر ہے یہی تری نگہِ فتنہ زا کا طورمانندِ موج ہم ادھر آئے اُدھر گئےکس طور سے ہو بحرِ فنا میں بقا کا طوررکھتا ہے تیرے زیرِ قدم ہر قدم پہ چشمسیکھا ہے خاک پا نے تری نقشِ پا کا طورواعظ جو اس پری میں ہے وہ حور میں کہاںشوخی کی طرز، ناز کا شیوا، ادا کا طورقاتل کے پاؤں تک نہ گیا بہہ کے خوں مراٹھہرے گا خاک عشق مرے خوں بہا کا طورپھیریں نہ منہ کسی سے کوئی خوب ہو کہ زشتیہ ہے مثالِ آئینہ اہلِ وفا کا طوردکھلایا اے ظفر ہمیں اس پرفریب نےمہر و وفا کے ڈھنگ میں ظلم و جفا کا طور(اعلیٰ حضرت بہادر شاہ ظفر)
No comments:
Post a Comment